سندھ کے ٹکڑے کرنے کی کوشش ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے:نثار کھوڑو

سندھ کے ٹکڑے کرنے کی کوشش ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے:نثار کھوڑو

کراچی: پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے متعلق تحریک التوا پر بحث کے آغاز میں اپنے خطاب میں کہا ہے کے کہا جا رہا ہے کے سندھ کے ٹکڑے کرو  اور صوبے بناؤ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ غلیظ حرکت کر رہے ہیں اس لئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کی باتیں نہ ملک کے مفاد میں ہیں نہ ہی عوام کے مفاد میں ہیں۔ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس کے مطالبے کرنے والے ایک ہسپتال نہیں سنبھال سکتے تو صوبے کیا سنبھالینگے۔ سندھ کی تقسیم کے خلاف پانچ مرتبہ قراردادیں منظور کی گئی ہیں اور تحریک التوا اس لئے پیش کی ہے کے دیکھنا چاہتے ہیں کے کون ہیں جو سندھ کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس ایوان میں دوتھائی اکثریت موجود ہے اور اکثریت سے یہ قرارداد منظور ہوگی کے سندھ کو نیا صوبہ اور انتظامی یونٹس نہیں چاہئے اور سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا۔

نثار کھوڑو نے کہا کے وہ سندھ کو اپنا جسم اور جان سمجھتے ہیں اور سندھ کے ٹکڑے کرنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کے آئین کے تحت صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے صوبے کی حدود میں تبدیلی کی منظوری دے سکتی ہے اور یہاں اکثریت صوبے کی حدود میں تبدیلی کے خلاف ہے۔ نئے صوبے بنانے اور  سندھ کی تقسیم کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس ایوان میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے اس لئے صوبائی اسمبلی دو تھائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے گی کے سندھ ایک کے اور ایک رہے گا۔وفاقی وزراء سے یہ آوازیں آئین ہیں کے سسٹم بیٹھ گیا ہے اس لئے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بناؤ اور فاق جان بوجھ کر یہ انتشار کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کے یہ اجلاس تاریخی اجلاس ہے جس میں جو بھی ممبر ہے وہ بولے گا اور سندھ کو ایک رکھنے کے لیے ہمیں ولنا پڑیگا اور  یہ ہم آہنگی رہے تو بہتر ہے اور فضول کی باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ نئے صوبے کے مطالبے کر رہے ہیں ، دو سال بعد انتخابات ہیں وہ اپنی طاقت آزما لیں  ان کو عوام کی طاقت معلوم ہوجائے گی۔ میرے چچا نے ون یونٹ کا کام کرکے سندھ کی تاریخی حیثیت کا ملیہ میٹ کیا اور بڑی جدوجھد کے بعد ون یونٹ ٹوٹا۔ جو لوگ انتظامی یونٹس بنانے کی بات کر رہے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کے سندھ میں ڈویزن کی صورت میں انتظامی یونٹس موجود ہیں۔انہوں نے کہا کے آمریکا کی کیلیفورنیا اسٹیٹ ایک سو ممالک سے بڑی ہے جب کیلیفورنیا ایک اسٹیٹ رہ سکتی ہے تو سندھ صوبہ بھی ایک رہ سکتا ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کے ایوب خان کے دور میں بیسک ڈیموکریسی کے نام پر عوام کے ووٹ کی اہمیت ختم کی گئی اور مختلف آمروں کے ادوار میں عوام کے ووٹ اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا گیا جبکے ضیاء الحق کے دور میں ووٹ کو غیر اسلامی قرار دینے کی کوشش کرکے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے گئے بعد میں ایک جماعت تشکیل دی گئی۔ 58 ٹو بی کے ذریعے عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومتیں ختم کی جاتی رہیں ،کببھی 18 ماہ، کبھی دو سال اور کبھی تین سال بعد حکومتیں ختم ہوتی رہیں اور 58 ٹو بی کا خاتمہ کرکے جمہوریت اور سیاست کو بچانے کی کوشش کی.انہوں نے کہا کے ایک دور میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بجائے صرف لوکل باڈی سسٹم کی بات کی گئی اور 50سالوں سے کھیل کھیلا جارہا ہے ،کیا چاہتے ہیں کے بلوچستان کی طرح سندھ بھی افراتفری میں رہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں