کراچی  مسائل  اختیارات اور  زمہ داری

کراچی  مسائل  اختیارات اور  زمہ داری

تحریر:  عقیل اختر

کراچی صرف پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ ملک کی معاشی شہ رگ بھی ہے۔ یہ شہر قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے اور ہر سال اربوں روپے کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی شہر آج بنیادی شہری سہولتوں سے محروم نظر آتا ہے۔ جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، ابلتے ہوئے گٹر، پانی کی شدید قلت، کچرے کے ڈھیر، بدترین ٹریفک، خستہ حال پبلک ٹرانسپورٹ، غیر قانونی تعمیرات، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کا خاتمہ اور بڑھتی ہوئی بے ہنگم آبادی اس شہر کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کراچی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا سب سے اہم شہر مسلسل مسائل کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے اس سوال کے مختلف جواب دیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ان تمام وجوہات کو سمیٹا جائے تو دو بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کراچی کے انتظامی اور بلدیاتی اداروں کو وہ اختیارات حاصل نہیں جو ایک بڑے عالمی شہر کو چلانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ شہر کی انتظامیہ اور فیصلہ سازی میں مقامی افراد کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے کا احساس مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ یہی دو عوامل دیگر بے شمار مسائل کو جنم دیتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ شہروں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں مقامی حکومتیں مضبوط ہوتی ہیں۔

شہر کا نظم و نسق، ترقیاتی منصوبے، ٹرانسپورٹ، صفائی، پانی، نکاسی آب اور شہری منصوبہ بندی ایک واضح اور جواب دہ نظام کے تحت چلتی ہے۔ کراچی میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ایک سڑک ایک ادارہ بناتا ہے، کچھ عرصے بعد دوسرا ادارہ اسے کھود دیتا ہے، پھر تیسرا ادارہ کسی اور منصوبے کے لیے وہی جگہ دوبارہ توڑ دیتا ہے۔ اس پورے عمل میں نہ عوام کو سہولت ملتی ہے اور نہ ہی کسی ایک ادارے کا احتساب ہو پاتا ہے۔ جب اختیارات مختلف اداروں میں تقسیم ہوں اور ذمہ داری واضح نہ ہو تو نقصان صرف شہریوں کا ہوتا ہے۔لیکن صرف اختیارات کی تقسیم ہی مسئلہ نہیں۔ ایک اور اہم پہلو وہ احساس ہے جو کراچی کے شہریوں میں برسوں سے موجود ہے کہ شہر کے اہم انتظامی اور ترقیاتی اداروں میں مقامی افراد کو مناسب مواقع نہیں ملتے۔ کراچی ایک منفرد شہر ہے۔ یہاں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں، مختلف معاشی طبقات رہتے ہیں اور ہر علاقے کے مسائل الگ نوعیت کے ہیں۔ ایسے شہر کو سمجھنے کے لیے صرف سرکاری رپورٹیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ زمینی حقائق کا تجربہ بھی ضروری ہوتا ہے۔کراچی میں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔ اس شہر نے ملک کو اعلیٰ سرکاری افسر، انجینئر، ڈاکٹر، ماہرین، وکلا اور منتظمین دیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر شہری یہ محسوس کریں کہ فیصلہ سازی کی سطح پر ان کے اپنے شہر کے لوگوں کی نمائندگی محدود ہے تو ان میں احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری ہے۔ اس احساس کو نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ مؤقف کسی غیر مقامی فرد کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھاتا۔ پاکستان ہر شہری کا ملک ہے اور ہر پاکستانی کو کسی بھی شہر میں خدمت کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مقامی صلاحیتوں کو ان کا جائز موقع مل رہا ہے؟ اگر ایک شہر میں قابل، تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد موجود ہوں لیکن فیصلہ سازی میں ان کی شرکت محدود ہو تو یہ انتظامی پالیسی کا جائز سوال بن جاتا ہے، نہ کہ کسی فرد یا علاقے کے خلاف تعصب۔کراچی کے مسائل صرف انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔

آج بھی شہر کے کئی علاقوں میں لوگ پینے کے صاف پانی کے لیے ٹینکروں کے محتاج ہیں۔ بعض علاقوں میں خواتین اور بچے پانی بھرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ پانی کی قلت نے شہریوں کی زندگی کو مہنگا بھی کر دیا ہے، کیونکہ بہت سے گھر سرکاری فراہمی کے بجائے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح نکاسی آب کا نظام ہر بارش میں ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں، کاروبار رک جاتا ہے اور شہری کئی کئی گھنٹے ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ بارش شہریوں کے لیے رحمت کے بجائے پریشانی کی علامت بن جاتی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے شہر کے شایانِ شان نہیں جو ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہو۔ٹریفک کا مسئلہ بھی کراچی کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ اپنی ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور کاروبار کے لیے کئی گھنٹے سڑکوں پر گزار دیتے ہیں۔ ناقص پبلک ٹرانسپورٹ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور کمزور ٹریفک مینجمنٹ نے شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایک شخص جو روزانہ تین یا چار گھنٹے سفر میں گزار دیتا ہے، اس کی صحت، خاندان اور پیداواری صلاحیت سب متاثر ہوتی ہیں۔صفائی کی صورتحال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، نالوں میں جمع گندگی اور آلودہ ماحول شہری صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ میں یہ عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ صاف ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن کراچی میں یہ حق بھی بہت سے علاقوں میں پورا نہیں ہو رہا۔تعلیم اور صحت کے شعبے بھی توجہ چاہتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں پر آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ سہولتیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ متوسط اور غریب طبقہ مہنگے نجی اداروں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا شہر جو ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہے، وہاں بنیادی عوامی خدمات کا یہ معیار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہتر ضرور ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرائمز شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ موبائل فون، موٹر سائیکل اور دیگر قیمتی اشیا کی چھیننے کی وارداتیں شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ ایک ایسا شہری جو صبح گھر سے نکلتے وقت اپنی جان و مال کے بارے میں فکرمند ہو، اس کے لیے معمول کی زندگی بھی ایک امتحان بن جاتی ہے۔یہ تمام مسائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کراچی کو وقتی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع شہری پالیسی کی ضرورت ہے۔ ایسی پالیسی جس میں اختیارات واضح ہوں، ادارے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، احتساب مؤثر ہو اور مقامی صلاحیتوں کو مناسب نمائندگی ملے۔ جب تک شہر کے مسائل کو شہر کے  نقط  نظر سے نہیں دیکھا جائے گا، اس وقت تک دیرپا تبدیلی مشکل رہے گی۔کراچی کے عوام کسی غیر معمولی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہر کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ انہیں صاف پانی، بہتر سڑکیں، محفوظ سفر، معیاری تعلیم، مؤثر صحت کی سہولتیں، صاف ماحول اور ایک ایسا انتظامی نظام چاہیے جو ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے جواب دہ ہو۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صرف مقامی ہونا کسی عہدے کے لیے کافی نہیں اور صرف غیر مقامی ہونا نااہلی کی دلیل نہیں۔ اصل معیار ہمیشہ اہلیت، دیانت، تجربہ اور کارکردگی ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ان تمام خوبیوں کے حامل مقامی افراد کو بھی مناسب مواقع نہ ملیں تو اس پر سوال اٹھانا ایک جائز جمہوری حق ہے۔

مضبوط شہر وہی ہوتے ہیں جہاں مقامی صلاحیتوں کو اعتماد دیا جاتا ہے اور انہیں اپنے شہر کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔آج وقت آ گیا ہے کہ کراچی کو سیاسی نعروں کے بجائے ایک قومی ترجیح سمجھا جائے۔ اس شہر کی ترقی صرف کراچی کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اگر کراچی ترقی کرے گا تو صنعت، تجارت، روزگار اور قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر یہ شہر مسلسل مسائل کا شکار رہا تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔کراچی کو اختیارات بھی چاہئیں، جواب دہ ادارے بھی، اور ایسی انتظامی ٹیم بھی جو اس شہر کی نبض سے واقف ہو۔ جب بااختیار نظام، شفاف حکمرانی، میرٹ پر تقرریاں اور مقامی صلاحیتوں کی مؤثر شمولیت ایک ساتھ سامنے آئیں گی تو کراچی صرف پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ ایک جدید، منظم اور باوقار عالمی شہر بھی بن سکتا ہے۔ یہی کراچی کے عوام کی خواہش ہے اور یہی اس شہر کا حق بھی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں