سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی قیادت میں ‘یومِ استحصالِ کشمیر’ ریلی کا انعقاد
کراچی: سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی نے بدھ کے روز کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ‘یومِ استحصال کشمیر’ ریلی کا انعقاد کیا، جس کی قیادت وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے کی۔ یہ ریلی یونیورسٹی کی مرکزی عمارت سے شروع ہوئی اور آئی ٹی ٹاور کے قریب اختتام پذیر ہوئی۔ اس ریلی میں سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے ڈینز، مختلف تعلیمی شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، افسران، عملے اور طلبہ نے شرکت کی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجیب صحرائی نے مقبوضہ کشمیر اور وہاں کے عوام کے خلاف بھارت کی ان سازشوں کی شدید مذمت کی جن کے تحت 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختار حیثیت ختم کر دی گئی، اور اسے دو الگ وفاقی یونین علاقوں میں تقسیم کر کے انہیں براہِ راست مرکزی حکمرانی کے ماتحت کیا گیا۔
ڈاکٹر صحرائی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف ایک بڑی سازش ہے بلکہ ان کے حق میں مختلف اوقات میں منظور کی جانے والی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تاریخی قومی ادارے — سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی – کے سربراہ کی حیثیت سے، میں ایک ایسے ‘تھنک ٹینک’ کی تشکیل کی تجویز پیش کرتا ہوں جو ملک بھر کی سرکاری اور نجی شعبے کی یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز کے ماہرینِ تعلیم پر مشتمل ہو، تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ ہم کشمیری عوام کے لیے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب محض باتوں اور تقاریر کا وقت گزر چکا ہے؛ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے ہر قسم کا جبر و استبداد استعمال کر رہا ہے، لہٰذا اب ہمیں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے کب تک ظالم بھارتی افواج کے ہاتھوں بے دردی سے شہید ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے انسانیت کے تمام اصولوں کو مکمل طور پر پامال کر دیا ہے۔ بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اب اقوامِ متحدہ یا دنیا کے کسی بھی ملک سے پوشیدہ نہیں رہی؛ لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ حقِ خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں کشمیریوں کی حمایت کریں اور دنیا کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے کشمیریوں کا ساتھ دے۔
ڈاکٹر صحرائی نے تجویز دی کہ ہمیں تعلیم، تحقیق، دفاع اور دیگر شعبوں میں کشمیری عوام کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے ملازمين پر زور دیا کہ وہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔
