نیو کراچی ٹاؤن میں 5 ارب،56 کروڑ سے زائد کا بجٹ 2026-2027 منظور
کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نیو کراچی کا میزانیہ برائے سال 2026-2027 کے لئے (پانچ ارب،چھپن کروڑ روپے،اکتالیس لاکھ،اکتیس ہزار،آٹھ سو پچاس روپے) کا بجٹ پیش کردیا۔کونسل نے بجٹ اتفاق رائے سے منظور کیا۔
اس موقع پر انکے ہمراہ میونسپل کمشنر عبدالجبار مہر،وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر، اکاؤنٹ آفیسر،ڈائریکٹر کونسل، بجٹ آفیسر، ڈائریکٹر ایڈمن،اراکینِ کونسل اور دیگر بلدیاتی افسران بھی موجود تھے۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک، نعتِ رسول مقبول ﷺ اور مطالہ حدیث سے کیا گیا۔
چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خاص خاص نکات پر روشنی ڈالی۔بجٹ پیش کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے بتایا کہ مجموعی بجٹ2026-27 میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 2 ارب 71 کروڑ 41 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ٹاؤن کی اپنی آمدنی کا ہدف 56 کروڑ 96 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں محدود وسائل کے باوجود عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے ادارے کلک (CLICK) کے تعاون سے شیخ سعدی اسکول، سیکٹر 11-G کی تعمیر و بحالی اور ایک جدید پارک کی تکمیل ہوئی اس کے علاوہ ہم نے سینکڑوں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پیور بلاکس کے زریعے گلیوں کی پختگی اور ایک ہزار گلیوں کی تعمیر جیسے منصوبے کامیابی سے مکمل کیے گئے۔
چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ بعض ایسے ترقیاتی کام بھی کیے گئے جو ٹاؤن کی ذمہ داری میں شامل نہیں تھے مگر عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے سیوریج لائنوں کی تنصیب، واٹر لائنوں کی مرمت اور ناصرہ اسکول کے اطراف برسوں سے موجود سیوریج کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا گیا۔الحمداللہ یہ ہمارا چوتھا بجٹ ہے اور ہماری پوری کوشش رہی ہے کہ ہر بجٹ صرف کاغذی دستاویز نہ رہے بلکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔ترقی کا سفر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف عوامی خدمت کے جذبے کے تحت جاری رکھا اور آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ٹاؤن کی مالی خودمختاری وقت کی اہم ضرورت ہے،اس لیے لوکل ٹیکس، اشتہاری آمدنی اور ٹریڈ لائسنس کے نظام کو مزید مؤثر بنا کر محصولات میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے اور شہری سہولیات میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔
چیئرمین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن سسٹم بحال ہونے سے قبل ملازمین کے بقایاجات کی مد میں 35 کروڑ روپے تھے جس کی ادائیگی کے لئے نیو کراچی ٹاؤن کو فوری طور پرخصوصی فنڈ جاری کیا جائے تاکہ ملازمین کی بقایا جات کی ادائیگیاں ممکن ہو سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے دور کا ایک روپیہ بھی کسی ملازم پر واجب الادا نہیں، ہم نے اپنے دور کے تمام واجبات بروقت ادا کیے ہیں اور آئندہ بھی ملازمین کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔بجٹ پر بحث کے بعد ایوان میں موجود تمام اراکینِ کونسل نے متفقہ طور پر مالی سال برائے 2026-27 کے بجٹ کی منظوری دے دی۔
چیئرمین محمد یوسف نے تمام اراکین کونسل، ٹاؤن افسران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ نیو کراچی کے عوام کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر اراکینِ کونسل نے سیکٹر 11-F نیو کراچی میں مبینہ طور پر قائم کیے جانے والے شراب خانے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم اکثریتی آبادی کے مذہبی و سماجی جذبات کا احترام کرتے ہوئے متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس منصوبے کو ختم کیا جائے۔
