پاکستان بھر کے سوشل سیکورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈز کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل
فنانس بل 2026-27: پاکستان بھر کے سوشل سیکورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈز کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنا حاصل
صوبائی وزیرِ محنت سندھ سعید غنی کی کاوشیں رنگ لے آئیں، ترمیمی فنانس بل کے ذریعے ملک بھر کے سماجی تحفظ کے اداروں کے کنٹری بیوشن اور فنڈز کو انکم ٹیکس سے استثنا مل گیا
کراچی: پارلیمنٹِ پاکستان نے ترمیمی فنانس بل 2026-27 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے کلاز 57 میں اہم ترمیم منظور کر لی ہے، جس کے تحت اب پاکستان بھر کے تمام صوبائی ایمپلائز سوشل سیکورٹی اداروں، بشمول سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI)، اور تمام ورکرز ویلفیئر بورڈز کو انکم ٹیکس سے باقاعدہ استثنا حاصل ہو گیا ہے۔ یہ تاریخی قانون سازی ملک بھر کے سماجی تحفظ کے اداروں اور لاکھوں محنت کشوں کے لیے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
ترمیمی فنانس بل 2026-27 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے کلاز 57 میں ہونے والی اس اہم ترمیم کے نتیجے میں ملک بھر کے تمام صوبائی سوشل سیکورٹی اداروں کو پہلی مرتبہ اس فہرست میں باقاعدہ شامل کر لیا گیا ہے۔ اس تاریخی قانونی پیش رفت سے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن سمیت ملک بھر کے تمام سوشل سیکورٹی اداروں، ورکرز ویلفیئر بورڈز اور ان سے وابستہ لاکھوں محنت کشوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
اس قانون سازی کے نتیجے میں اب سوشل سیکورٹی اداروں اور ورکرز ویلفیئر بورڈز کے کروڑوں روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا ہونے کے بجائے محنت کشوں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود، علاج معالجہ، سماجی تحفظ، مالی معاونت اور دیگر فلاحی خدمات پر خرچ کیے جا سکیں گے، جس سے ان اداروں کی مالی استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
یہ اہم کامیابی صوبائی وزیرِ محنت سندھ جناب سعید غنی کی خصوصی دلچسپی، مؤثر قیادت، مسلسل کاوشوں اور ذاتی پیروی کا نتیجہ ہے۔ اس سلسلے میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے کمشنر ہادی بخش کلہوڑو، ڈائریکٹر فنانس اسد حیدر عابدی اور ممبر گورننگ باڈی سیسی انجینئر ایم اے جبار میمن نے بھی اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی جانب سے اس تاریخی کامیابی پر صوبائی وزیرِ محنت سندھ جناب سعید غنی، کمشنر سیسی جناب ہادی بخش کلہوڑو، ممبران گورننگ باڈی، ڈائریکٹر فنانس اور اس قومی مقصد کے حصول میں کردار ادا کرنے والے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو دلی مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
ترجمان سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے مطابق یہ قانون سازی نہ صرف سوشل سیکورٹی اداروں کی مالی بنیادوں کو مزید مستحکم کرے گی بلکہ اس کے نتیجے میں محنت کشوں کو فراہم کی جانے والی طبی، مالی، سماجی تحفظ اور فلاحی سہولیات کے دائرۂ کار میں بھی نمایاں وسعت اور بہتری آئے گی، جس سے ملک بھر کے لاکھوں صنعتی، تجارتی اور دیگر رجسٹرڈ کارکنان اور ان کے خاندان مستفید ہوں گے۔
