اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے:وزیراعظم
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاست اپنی اپنی جگہ مگر پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، اور سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ملک کو مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا، اس کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی موجود تھے۔
اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تاہم بجٹ پیش ہونے کے بعد ہونے والے اس پہلے اجلاس میں حاضری انتہائی کم رہی۔
اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے ملکی سیاسی تاریخ کے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایوب خان کے دور میں نواب نوروز خان اور ان کے بچوں کو پھانسی دی گئی، جبکہ عطاء اللہ مینگل کے گھر پر سیکیورٹی فورسز کے چھاپے اور ان کے بیٹے کی گمشدگی کا بھی ذکر کیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شکست خوردہ پاکستان کو دوبارہ اکٹھا کیا، مگر ان کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ نصرت بھٹو سے ملے تو وہ لرز گئے تھے اور اس ایوان کی مضبوطی کے لیے ہمیشہ ہر مظلوم کا ساتھ دیا۔
وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ایوان ایک گھر کی مانند ہے جہاں پورے پاکستان سے منتخب اراکین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم قومی مفاد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔
