کراچی میں قلت آب کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج
کراچی میں قلت آب کے خلاف جماعت اسلامی نےولی شہر بھر میں احتجاج کیا گیا۔
کراچی میں پانی کی قلت کے خلاف پورے شہر میں مظاہرے کیے جارہے ہیں۔میئر کراچی شاید دور سے نہیں سنتے اسلیے ان کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا جارہاہے.
سیف الدین ایڈووکیٹ نے احتجاج سے خطاب میں کہا کہ کراچی کو معمول کے مطابق اسکی ضروریات سے کم پانی ملتا ہے۔اڃا س سلسلے میں نعمت اللہ خان مرحوم نے کے فور منصوبہ تیار کیا۔کراچی میں حب ڈیم سے پانی کی فراہمی کی بہتری کیلیے نئی نہر کا لولی پاپ دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں عید کے دنوں میں بھی نہانے کیلیے پانی دستیاب نہیں تھا۔دو ڈھائی ہزار روپے کا واٹر ٹینکر دوگنا قیمت پر ملنے لگا تھا۔جانے نا جانے مرتضیٰ ہی نا جانے ،شہر تو سارا جانے ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ دھابیجی کی لائینیں مہینے میں دو تین بار کیسے ٹوٹ جاتی ہیں۔
انہوں کہا کہ لائنوں کو کیسے پتہ لگتا ہے کہ عید آرہی ہے ، رمضان آرہا ہے یا کوئی تہوار آرہا ہے۔یہ اپنے محل میں رہتے ہیں،عوام سڑکوں پر بلکہ اپنے گھروں میں بھی پریشان ہیں۔میں مرتضیٰ وہاب اور حکومت سندھ کو بتاتا ہوں کہ ابھی احتجاج پرامن ہے۔لیکن اب احتجاج ہڑتالوں میں بھی بدل سکتا ہے اور 77جیسی تحریک بھی چل سکتی ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے احتجاج سے خطاب میں کہا کہ اس سے پہلے کراچی میں چھپنے کی جگہ نا ملے، ہوش کے ناخن لیں۔مراد علی شاہ تم نے ایک نااہلی شخص کو کراچی پرمسلط کردیا۔جو واٹر بورڈ کا بھی چیئرمین ہے اور سالڈ ویسٹ بورڈ کا بھی چیئرمین ہے۔لیکن شہر کی صورتحال روز بروز بدتر ہورہی ہے۔کراچی کے شہریوں سے بھی کہتا ہوں کہ گھروں سے نکلو گے تو مسائل حل ہونگے.
