انمول عرف پنکی کو پروٹوکول کی انکوائری مکمل، اہم انکشافات
کراچی: رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کو پروٹوکول کی انکوائری مکمل، ایس ایچ او گارڈن نے ایس ایس پی سٹی کے احکامات پر پروٹوکول فراہم کیا،منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو تھانے میں بہترین سہولیات، کھانا، میک اپ، کپڑے اور دوائیں فراہم کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے لیکر عدالتی پیشی تک ایس پی انویسٹیگیشن سٹی اور ڈی آئی جی سائوتھ کو لاعلم رکھا گیا۔منشيات ڈیلر انمول عرف پنکی اور ایس ایچ او گارڈن کے درمیان پیسوں کی لین دین کی بات ہوی تھی، اس معاملہ کی الگ سے تحقیقات کی جائیں۔
ملزمہ پنکی سے متعلق رپورٹ کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی کو تقریباً 3:00 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان پی ایس گارڈن لایا گیا،ملزمہ کو ایس ایچ او گارڈن نے اپنے دفتر میں وی آئی پی مہمان کی طرح بٹھاکر رکھا۔ایس ایچ او گارڈن ملزمہ انمول پنکی کے ساتھ ایک گھنٹے تک ہنسی مزاق کرتا رہا۔
ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق باضابطہ طور پر تفتیشی حکام کے حوالے نہیں کیا گیا،منشيات ڈیلر انمول پنکی کے لئے کپڑوں، کھانے اور میک اپ کا بھی بندوبست ایس ایچ او کی جانب سے کیا گیا۔انمول عرف پنکی نے ایس ایچ او کو دیکھ بھال کرنے کا تھا جس پر اسے پروٹوکول دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منشيات فروش ملزمہ صبح ایس ایچ او کے دفتر میں عدالت جانے سے پہلے تیار ہویں۔ایس ایچ او نے ایس آئی او سے کہا کہ اعلی افسران کے احکامات ہیں ملزمہ کو جلد از جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔ ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کے احکامات پر پنکی کو جلد بازی میں عدالت پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او کی پرائیویٹ گاڑی میں ملزمہ کو عدالت لایا گیا،ایس ایچ او کا ڈرائیور پی سی نقاش گارڈن پی ایس میں تعینات نہیں ہے اور معطل ہے،عدالت میں آئی او کی جانب سے لیڈی اہلکاروں کو ملزمہ سے دور چلنے کو کہا۔معاملہ کا وزیر داخلہ کی جانب سے نوٹس لینے کے باوجود ملزمہ کو موبائل فون دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت میں انمول پنکی نے 3 بجے ایس آئی او اور خاتون پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں موبائیل استعمال کیا،انکوائری آفیسر کے گارڈن تھانے کے دورے کے دوران ایس ایچ او کے سائڈ روم میں موجود سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر غائب تھا،انکوائری کمیٹی کی جانب سے ایس ایس پی سٹی سید علی حسن، ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال اور ایس آئی او ظفر اقبال کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔تمام تر معاملے میں ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کی سنگین غفلت،بدنیتی پائی گئی اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او اور ملزمہ انمول پنکی کے درمیان پیسوں کی لین دین کی بات ہوی، اس کے لیے مزید انکوائری کی ضرورت ہوتی ہے،ایس ایچ او گارڈن نے۔سنگین بددیانتی، مجرمانہ غفلت اور اختیارات کا غلط استعمال کیا، جس سے پولیس کی ساکھ خراب ہوی۔ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کے خلاف سندھ ایفینسینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1988 کے تحت بڑی محکمانہ کارروائی کی سفارش۔
ملزم کو عدالت کے احاطے میں اسے موبائل فون تک رسائی فراہم کرنے کی سہولت فراہم کرنے سے ایک تجربہ کار تفتیشی افسر کے طرز عمل پر شدید تحفظات پیدا ہوتے ہیں
انمول عرف پنکی کے ساتھ عدالتی پیشی پر تعینات خاتون پولیس اہلکاروں نہ بریفنگ دی گئی اور نہ ہی تربیت دی گئی، ہی اتنا تجربہ ہے کہ وہ اس طرح کے ہائی پروفائل کیس کو سنبھال سکیں.مجموعی طور پر، ضلعی ایس ایس پی اس ہائی پروفائل کیس کو ہینڈل کرنے کا ذمہ تھا.ایس ایس پی کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں کارروائی کی نگرانی کے لیے کسی نگران افسر کو نامزد نہیں کیا گیا،رپورٹ
ضلعہ سٹی کے پی آر او بھی ملزمہ انمول پنکی کی گرفتاری اور تحویل کے حوالے سے ایس ایچ او سے رابطے میں تھے.ملزمہ انمول پنکی کی گرفتاری کی تمام تفصیلات ضلع ایس ایس پی کو وقتاً فوقتاً فراہم کی گئیں.ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے لیکر عدالتہ پیشی تک ایس ایس پی سٹی اور ایس ایچ او کے درمیان ہونے والی بات چیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں گرفتاری اور حراست کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا.رپورٹ
ایس ایس پی سٹی نے اپنے ڈی آئی جی پی ساؤتھ سے ایسے ہائی پروفائل ٹارگٹ کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی.ملزمہ کی گرفتاری اور تحویل کے حوالے سے متعلقہ ایس پی انویسٹی گیشن کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا جس کے نتیجے میں سنگین کوتاہیاں ہوئیں.ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی کی جانب سے ہائی پروفائل کیس میں پیشہ ورانہ نااہلی اور بدانتظامی کہ وجہ سے محکمہ پولیس کو شرمندگی کا سامنہ کرنا پڑا،ایس ایس پی جانب سے یہ عمل سنگین بدانتظامی تھی، محکمہ پولیس کے بہترین مفاد میں اس کے خلاف بڑی محکمانہ کارروائی کی جائے.ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد گزشتہ روز ایس پی سٹی کو معطل کردیا گیا تھا۔
