نیو کراچی ٹاؤن میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری، ایک ہزار گلیوں کی تعمیر تکمیل کے قریب

نیو کراچی ٹاؤن میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری، ایک ہزار گلیوں کی تعمیر تکمیل کے قریب

کراچی:  چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف کا سیکٹر 5-B-2 میں پیور بلاک سے تعمیر کی جانے والی گلیوں کا معائنہ۔چیئرمین محمد یوسف کے ہمراہ یوسی چیئرمین و  وائس چیئرمین، کونسلرز، عوامی نمائندوں اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر علاقہ مکینوں نے ترقیاتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بلدیاتی خدمات کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیا۔

چیئرمین محمد یوسف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ نیو کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کی تعمیر تکمیل کے قریب ہیں اور جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے بلا تفریق رنگ و نسل عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ نیو کراچی ٹاؤن کو مکمل طور پر ترقی یافتہ بنانے کے لیے کم از کم 10 ارب روپے درکار ہیں جبکہ ہمارے پاس صرف 2 ارب روپے کا فنڈ ہے، مگر اس مختصر فنڈ کے باوجود ترقیاتی کام عوام کو واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں گلیاں تعمیر ہو رہی ہیں، سڑکیں بہتر بن رہی ہیں اور بلدیاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کسی قسم کی کرپشن یا کمیشن کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔ عوام سے حاصل ہونے والا ٹیکس دراصل عوام ہی کی امانت ہے اور شہریوں کا حق ہے کہ انہیں صاف ستھراماحول اور روشن گلیاں اور آباد پارکس، کھیل کے میدان اور بچوں کے لیے بہتر اور مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں تاکہ شہری اپنے ٹیکس کا حقیقی فائدہ محسوس کر سکیں۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے نمائندے اپنی مدت پوری کر کے چلے جائیں گے، مگر عوامی خدمت کی بنیاد پر جماعت اسلامی انشاء اللہ پہلے سے زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ واپس آئے گی۔

اس موقع پر انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے بیان کے مطابق پاور ہاؤس چورنگی اور4-K  چورنگی پرفلائی اوور منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کو کسی بھی بڑے منصوبے سے قبل علاقے کے بنیادی انفراسٹرکچر اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاور ہاؤس چورنگی کے نیچے واٹر بورڈ کا اہم پمپنگ اسٹیشن موجود ہے جو پورے نارتھ کراچی کو پانی فراہم کرتا ہے، اگر فلائی اوور کی تعمیر کے دوران اس نظام کو نقصان پہنچا تو پورا علاقہ متاثر ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی ضرورت کے مطابق اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہونے چاہئیں تاکہ قومی وسائل کا ضیاع نہ ہو اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کیونکہ حکومت سندھ کے حالیہ منصوبے ہی تعطل کا شکار ہیں اور مالی وسائل کے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں