لاہور کی طرح کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا سربراہ بھی نجی شعبے سے مقرر کیا جانا چاہیے:چیئرمین آباد

فائلر اور نان فائلر کی تفریق و دیگر ٹیکسز نے تعمیراتی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا: ایس ایم تنویر

لاہور کی طرح کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا سربراہ بھی نجی شعبے سے مقرر کیا جانا چاہیے:چیئرمین آباد

کراچی: یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسز کی بھرمار سے ملک میں ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن سے وابستہ 80 سے زائد صنعتیں بند ہوچکی ہی۔ فائلر اور نان فائلر کی تفریق سمیت سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر ٹیکسز نے تعمیراتی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا اور سرمایہ کاری کا ماحول تباہ کردیا۔یہ بات انھوں نے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے صدر زبیر ایف طفیل کی سربراہی میں آباد ہاﺅس کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفد میں ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور یو بی جی سدرن ریجن کے سیکریٹری جنرل محمد حنیف گوہر ودیگر یوبی جی رہنما بھی شامل تھے۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ بینکوں میں پیسہ رکھنے سے کاروبار نہیں چلتے، معیشت کو فعال بنانے کے لیے سرمایہ کاری اور صنعتوں کا چلنا ضروری ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ نے معاشی بہتری کے لیے ایک اکنامک تھنک ٹینک قائم کیا ہے، جو آئندہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز دے رہا ہے۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی ہی دراصل معیشت کی ترقی ہے کیونکہ اس سے 70 سے زائد دیگر صنعتیں وابستہ ہوتی ہیں۔ دنیا بھر میں پراپرٹی پر اوسطاً 4 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ایڈوانس ٹیکس کے نام پر قوم کے ساتھ فراڈ کیا گیا۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ یوکرین اور روس کی جنگ کے باعث اگر تیل مہنگا ہوا تو اس میں ہاو ¿سنگ سیکٹر کا کیا قصور تھا؟۔

ایس ایم تنویر نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بجٹ میں سیکشن 236 سی، 7 ای اور دیگر متنازع ٹیکسز ختم کردیے جائیں گے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) پہلے ہی ختم کی جاچکی ہے جبکہ دبئی جانے والا سرمایہ بھی اب رک گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامید ہیں کہ بجٹ کے بعد حالات بہتر ہوں گے، میں پاکستان کی معیشت میں شاندار ترقی دیکھ رہا ہوں، خصوصاً کراچی میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ میں نئی سوچ کی ضرورت ہے اور نوجوان نسل کو آگے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایس ایم تنویر نے حالیہ عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائشی پلاٹوں کی کمرشل میں تبدیل پر پابند ی ختم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی معاشی امور میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا جنگ بند کرانے کے بعد فیلڈ مارشل کی پوری توجہ پاکستان کی معاشی ترقی پر ہوگی۔

اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ قوانین ایسے بنائے جائیں جن کے تحت عدالتوں میں مقدمات 3 ماہ کے اندر نمٹائے جائیں۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں نجی شعبے سے چیئرمین مقرر کیے جانے کے بعد نمایاں بہتری دیکھی گئی، اسی طرز پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا سربراہ بھی نجی شعبے سے مقرر کیا جانا چاہیے۔

حسن بخشی نےبتایاکہ انھوں نے فیلڈ مارشل کو خط بھی لکھا ہے کہ وہ دیکھیں کہ کراچی میں کارکردگی بہتر ہوئی ہے یا نہیں۔اگر بیوروکریسی، سیاستدانوں یا ہم میں کوئی خامی ہے تو احتساب کے لیے تیار ہیں۔ سندھ حکومت کے بعض ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے جانے چاہئیں کیونکہ پنجاب میں کاروباری حالات سندھ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں، جبکہ کراچی خود کو تنہا محسوس کررہا ہے۔ آباد کسی قسم کے فیور کے بغیر عوام اور تعمیراتی شعبے کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر ایس ایم تنویر اور ایس ایم تنویر کی کاروباری خدماتکو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں