سندھ کے نامور گلوکار استاد محمد ابراہیم کھچی کی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے
سندھ کے نامور گلوکار استاد محمد ابراہیم کھچی کی برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، تاہم اس موقع پر محکمہ ثقافت حکومت سندھ کی جانب سے کسی بھی قسم کی سرکاری تقریب یا باضابطہ خراجِ عقیدت پیش نہ کیے جانے پر ثقافتی حلقوں میں افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
استاد محمد ابراہیم کھچی، جن کا انتقال 1977 میں ہوا، سندھ کی لوک اور کلاسیکی موسیقی کے درخشاں ستاروں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی منفرد آواز اور اعلیٰ فنی مہارت کے ذریعے نہ صرف ملک بھر میں شہرت حاصل کی بلکہ سندھ کی ثقافت کو بھی نئی پہچان دی۔ ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
استاد محمد ابراہیم کھچی کے شاگردوں میں روبینہ قریشی، جیجی زرینہ بلوچ، استاد عبداللہ کھچی اور استاد عبداللہ پنھور شامل ہیں،
برسی کے موقع پر مختلف فنکاروں، ادیبوں اور موسیقی سے وابستہ شخصیات نے انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر رشید صابر آرٹس سرکل کے روحِ رواں رضوان صابر نے بھی استاد محمد ابراہیم کھچی کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کا قیمتی اثاثہ تھے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے ایسے عظیم فنکار کو نظرانداز کیا گیا۔
ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے عظیم فنکار کسی بھی معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں، اور انہیں یاد رکھنا ریاست اور اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ استاد محمد ابراہیم کھچی سمیت دیگر سینئر فنکاروں کی برسیوں پر سرکاری سطح پر تقاریب کا انعقاد کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس کرایا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی بڑی تعداد نے استاد محمد ابراہیم کھچی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں ایسے عظیم فنکاروں کو سرکاری سطح پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فنکاروں کی خدمات کو بروقت تسلیم نہ کیا گیا تو یہ روش ہماری ثقافتی شناخت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ ثقافت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے اور اپنے عظیم فنکاروں کو وہ مقام دے جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔
