پاک انٹرنیشنل بزنس فورم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرمعاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف قراردے دیا
کراچی: پاک انٹرنیشنل بزنس فورم نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بے تحاشا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اور اسے عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف قراردیا ہے
پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کراچی کے صدر سہیل عزیز،جنرل سیکریٹری محمد عامر رفیح اور فورم کے دیگر رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خطے کی صورتحال یقینا تشویشناک ہے لیکن اگر حکومت کے پاس ایک ماہ کا اسٹاک موجود تھا تو پہلے مرحلے میں بچت کے اقدامات کئیے جانے چاہئیے تھے، سب سے پہلے سرکاری افسران،ارکان اسمبلی،وزرا اور دیگر مراعات یافتہ طبقات کا مفت پیٹرول بند کیا جانا چاہئیے تھا، دوسرے یہ کہ اگر قیمت بڑھانی ضروری بھی تھی تو رفتہ رفتہ اضافہ کیا جاسکتا تھا،ہر ہفتے جائزہ لے کر یہ کام ہوسکتا تھا۔
پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کی ریسرچ ٹیم نے بتایا کہ ایک جائزے کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے تیل حاصل کرنے والے ممالک، بھارت، چین اور جاپان میں قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ملک بھر کے تاجروں، صنعتکاروں ، صارفین اور عوامی نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر مشورہ کیا جائے اور عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے قومی اور عوامی مفاد میں حکمت عملی وضع کی جائے۔ PIBFنے تجویز کیا ہے کہ پاکستان جیسی کمزور معیشت والے ملک میں وزراء سرکاری ملازمین اور مراعات یافتہ طبقات کے لئیے مفت پیٹرول، مفت بجلی، مفت ٹیلی فون اور دیگر مفت سہولیات مستقل بند کی جانی چاہئیں، PIBF کے رہنماؤں نے زور دیکر کہا کہ تازہ صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستانی برانڈز کو فروغ دیا جائے،پاکستانی مصنوعات جتنی مضبوط ہونگی درآمدات پر انحصار کم سے کم ہوگا اور جنگی صورتحال میں ملکی معیشت غیر ضروری دباؤ میں نہیں آئے گی۔
