پاکستان میں سماجی تحفظ اسکیم کے مالی و طبی فوائد
تحریر وسیم جمال
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سماجی تحفظ (Social Security) کا نظام ریاستی فلاح و بہبود کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان ممالک میں حکومتیں اپنے شہریوں خصوصاً محنت کش طبقے کو بیماری، بے روزگاری، حادثات اور بڑھاپے جیسے معاشی و سماجی خطرات سے بچانے کے لیے مضبوط اور جامع نظام قائم کر چکی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے بغیر معاشی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے ایسے ممالک میں بھی سماجی تحفظ کے نظام کو بتدریج وسعت دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں سوشل سیکورٹی اسکیم کا باقاعدہ آغاز یکم مارچ 1967 کو کراچی، حیدرآباد اور فیصل آباد میں کیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس اسکیم کا اطلاق صرف ٹیکسٹائل صنعت تک محدود تھا، کیونکہ اس وقت یہ صنعت پاکستان کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی تھی اور اس میں بڑی تعداد میں مزدور کام کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے اور مزدوروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر اس اسکیم کے دائرہ کار میں توسیع کی گئی اور دیگر صنعتوں کے کارکنان کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت کارکنوں کی رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی ادائیگی آجر (Employer) کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سندھ سوشل سیکورٹی ایکٹ 2016 کی سیکشن 75 میں 2018 میں کی گئی ترمیم کے بعد سندھ مینیمم ویجز ایکٹ 2015 کے تحت مقرر کردہ کم از کم اجرت کی بنیاد پر کارکنوں کی رجسٹریشن کی حد متعین کی گئی ہے۔ اس کے مطابق اس وقت تقریباً 40 ہزار سے 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والا ہر کارکن سوشل سیکورٹی اسکیم میں رجسٹرڈ ہونے کا اہل ہے۔ اجر رجسٹرڈ محنت کش کو ادا کئی گئی تنخواہ کا چھ فیصد ہر ماہ سوشل سیکورٹی کے ادارے کو کنٹری بیوشن کی مد میں ادا کرنے کا پابند ہے، ایک بار جب کوئی کارکن اس اسکیم میں رجسٹر ہو جاتا ہے تو بعد میں اس کی تنخواہ میں اضافے کے باوجود وہ سوشل سیکورٹی کی سہولیات سے مستفید ہوتا رہتا ہے۔
طبی فوائد
سوشل سیکورٹی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو مختلف طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ معیاری علاج معالجے سے مستفید ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل سیکورٹی کے ہسپتال، ڈسپنسریاں اور طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں رجسٹرڈ محنت کشوں اور ان کے لواحقین کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہے۔
ان طبی سہولیات میں ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ اور علاج، مختلف بیماریوں کی تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ، ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور سی ٹی اسکین جیسی سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو اسپتال میں داخل کر کے مکمل علاج بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ بعض مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولیات بھی مہیا کی جاتی ہیں، جیسے گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائلیسس کی سہولت۔ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے، علاج کی صورت میں اگر کوئی سہولت سوشل سیکورٹی کے اسپتالوں میں میسر نہ ہو تو اس صورت میں مریض کو علاج کی غرض سے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے
اسی طرح حادثات یا بیماری کے باعث جسمانی اعضا سے محروم ہونے والے افراد کو مصنوعی اعضا بھی فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔ حفاظتی ٹیکہ جات اور ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے امراض کے علاج کی سہولت بھی اس نظام کا حصہ ہے۔
مالی فوائد
سوشل سیکورٹی اسکیم کا ایک اہم پہلو مالی فوائد کی فراہمی بھی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کارکن کو بیماری، حادثے یا دیگر کسی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا کرنا پڑے تو اسے مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔
عام بیماری کی صورت میں کارکن کو 121 دن تک آخری اجرت کا 75 فیصد ادا کیا جاتا ہے جب کہ ٹی بی یا کینسر کی صورت میں 365 دن تک بیماری کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے تا کہ وہ علاج کے دوران معاشی مشکلات کا شکار نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کارکن کو دورانِ ملازمت حادثہ پیش آئے اور وہ عارضی یا مستقل طور پر کام کرنے کے قابل نہ رہے تو اسے مالی معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ کام کے دوران چوٹ کی صورت میں 180 دن یعنی چھ ماہ تک آخری اجرت کا 100 فیصد معاوضہ ادا کیا جاتا ہے
خواتین کارکنوں کے لیے زچگی کے دوران مالی معاونت کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اس اہم مرحلے میں مالی دباؤ سے محفوظ رہ سکیں۔ انھیں 12 ہفتہ تک آخری اجرت کا سو فیصد ادا کیا جاتا ہے یعنی جو اجرت وہ حاصل کررہی تھیں وہ انھیں سوشل سیکورٹی کا ادارہ ادا کرتا ہے، اس ہی طرح رجسٹرڈ خاتون ورکر کے شوہر کے انتقال کی صورت میں دوران عدت 130 دن تک آخری اجرت کا سو فیصد خاتون ورکر کو ادا کیا جاتا ہے
اگر کسی حادثے کے نتیجے میں کارکن مستقل معذوری کا شکار ہو جائے تو اسے معذوری پینشن ادا کی جاتی ہے۔
جو معذوری دوران کار حادثہ کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے اس میں معمولی معذوری کا عطیہ یکمشت رقم کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے اگر معذوری 67 فیصد یا اس سے زیادہ ہے تو ایسا ملازم (ورکر) مکمل طور پر معذور تصور کیا جاتا ہے اور معذوری پینشن کا حقدار قرار پاتا ہے جس کی ادائیگی کی شرح تنخواہ کے 75 فیصد کے برابر ہے
دوران کار حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے رجسٹرڈ محنت کش کے پسماندگان کو کچھ شرائط کے تحت پنشن کی سہولت دی جاتی ہے۔ پسماندگان میں بیوہ کو تا حیات پینشن ملتی ہے بشرطیکہ وہ دوسری شادی نہ کرئے، لڑکوں کو 21 سال کی عمر تک اور لڑکیوں کے لیے جب تک ان کی شادی نہ ہو جائے پینشن ادا کی جاتی ہے، اگر مرحوم کارکن شادی شدہ نہ ہو اور والدین کی جانب سے یہ ثبوت کہ وہ متعلقہ تحفظ یافتہ شخص کے زیر کفالت تھے تو والدین کو تاحیات پینشن ادا کی جاتی ہے
مزید برآں، اگر کسی رجسٹرڈ کارکن کا انتقال ہو جائے تو اس کے لواحقین کو خصوصی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ مشکل حالات میں سہارا حاصل کر سکیں۔ جو 30 دن کی بیماری کے مالی فائدے کے برابر ادا کی جاتی ہے
اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق خصوصی مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔
سماجی تحفظ کا نظام کسی بھی معاشرے میں محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں سوشل سیکورٹی اسکیم کے ذریعے لاکھوں محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کو طبی اور مالی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو ان کی زندگیوں میں تحفظ اور اعتماد کا احساس پیدا کرتی ہیں۔
اگر اس نظام کو مزید موثر، شفاف اور وسیع بنایا جائے تو نہ صرف مزدوروں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ یہ قومی معیشت کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ایک مضبوط سماجی تحفظ کا نظام دراصل ایک فلاحی ریاست کی بنیاد ہوتا ہے جو اپنے شہریوں خصوصاً محنت کشوں کے حقوق اور فلاح کو یقینی بناتا ہے۔
