دشمن عناصر براہ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ اور مبہم حربے اختیار کر رہے ہیں:فیلڈ مارشل
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہمہ جہت تیاری اور قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ دشمن عناصر براہ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ اور مبہم حربے اختیار کر رہے ہیں، جن میں پراکسیز کے ذریعے داخلی کمزوریوں کا استحصال بھی شامل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا
نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس میں شریک سول و عسکری شرکا کے پینلز کی جانب سے قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے تقاضوں پر مبنی تعلیمی تجزیے سے فیلڈ مارشل کو بریفنگ دی گئی۔
فیلڈ مارشل نے بدلتے ہوئے عالمی، علاقائی اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ ماحول پر روشنی ڈالی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کو متنوع اور مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے، یہ چیلنجز روایتی، غیر روایتی، انٹیلی جنس، سائبر، معلوماتی، عسکری، معاشی اور دیگر شعبوں پر محیط ہیں۔ان سے نمٹنے کے لیے ہمہ جہتی تیاری اور قومی طاقت کے تمام عناصر کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر براہ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ اور مبہم حربے اختیار کر رہے ہیں، جن میں پراکسیز کے ذریعے داخلی کمزوریوں کا استحصال شامل ہے۔ مستقبل کے قائدین کو ایسے کثیرالجہتی اور ادراک پر منبنی بروقت شناخت، پیش بینی اور مؤثر تدارک کی تربیت دی جانی چاہیے
فیلڈ مارشل نے کہا کہ غیر یقینی حالات میں واضح فیصلہ سازی، فکری مضبوطی اور ذہنی استقامت آج کے متنازع سیکیورٹی ماحول میں مؤثر قیادت کے لیے ناگزیر اوصاف ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسٹریٹجک مفکرین کی تیاری میں این ڈی یو کے کردار کو سراہا اور کہا کہ یہ ادارہ سخت پیشہ ورانہ تربیت اور علمی بصیرت کو مؤثر پالیسی سازی اور عملی نتائج میں ڈھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ عسکری تعلیم ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے،مقامی صلاحیتوں کے فروغ اور طویل المدتی قومی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پینلز کے گہرے تجزیے اور نتائج کو سراہتے ہوئے شرکا پر زور دیا کہ وہ دیانت، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کے اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے چوکنااور ثابت قدم رہیں۔
قبل ازیں این ڈی یو پہنچنے پر چیف آف ڈیفنس فورسز کا صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے پرتپاک استقبال کیا۔
