کراچی: وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر کا نارتھ کراچی سیکٹر 03 کا دورہ۔برسوں پُرانے سیوریج کے مسائل پر علاقہ مکین سراپا احتجاج۔تفصیلات کے مطابق وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے عوامی شکایات پر نارتھ کراچی سیکٹر 03 میں موجود برسوں پرانے سیوریج کے مسئلے پر عوام سے ملاقات کی۔
اس موقع پر یوسی واڑد کونسلرمحمد اسمعیل علاقہ معززین کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ مکین برسوں پُرانے سیوریج کے مسائل پر سراپا احتجاج ہیں۔چار سال قبل یہاں کے منتخب ایم این اے اور ایم پی اے نے سیوریج کے مسئلے کو حل کئے بغیر یہاں روڈ بنایا تھا جس کی وجہ سے سڑک علاقے سے اونچی اور سیوریج کا مین ڈسپوزل علاقے سے نیچا ہوگیا ہے اور سیوریج کا گندہ پانی گلیوں اور سڑکوں پر موجود رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے علاقہ مکینوں کے ہمراہ کئی بار واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور سیکٹر 3 میں موجود سیوریج کے مسائل سے آگاہ کیا ہم نے واٹر بورڈ کو پرپوزل بھی دیا کہ سیکٹر 03 سے کریلا موڑ تک 24 انچ یا 36 انچ قطر کی سیوریج کی لائن ڈالی جائے جس سے اس علاقے کا سیوریج کا مسئلہ حل ہوجائے گا مگر افسوس کے ساتھ وہ وعدے تو کرتے ہیں مگر ان وعدوں کو پورا نہیں کرے ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ واٹر بورڈ کا فنڈ کہا جا رہا ہے عوام پریشان ہیں مگر واٹر اینڈ سیوریج کے ذمہ داران پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔واٹر بورڈ کی جانب سے کئی بار عوام کو لالی پاپ دیا گیا کہ ایک ماہ کہ اندر یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ہمیں دیکھتے ہوئے تقریباً دو سا ل ہوگئے ہیں سیوریج کا مسئلہ تاحال موجود ہے
شعیب بن ظہیر کا کہنا تھا کہ ہم نے واٹر بورڈ کے آفتاب چانڈیو صاحب سے اس حوالے سے بات چیت کی مگر انہوں نے کو ئی ایکشن نہیں لیا۔خدارا عوام پریشان ہیں سیکٹر 03 میں موجود سرکاری اسکول میں سیوریج کا پانی بھرا ہوا ہے جس سے نضابی سرگرمیاں متاثر ہیں جبکہ علاقے میں موجود اسپورٹس گراؤنڈ بھی سیوریج کے گندے پانی کی نظر ہوگیا ہے اور علاقے کے نوجوان اور بچے کھیلوں سے محروم ہیں جبکہ علاقے میں مساجد اور قبرستان جانے والے روڈ پر بھی سیوریج کا پانی موجود ہے جس سے نمازی اور زائرین قبرستان کو بے حد دشواری ہورہی ہے۔واٹر بورڈ عوامی پریشانی کو دیکھتے ہوئے ہمارے پرپوزل پر عمل کرے اور علاقے سے برسوں پرانے سیوریج کے مسئلے کو ختم کرے تاکہ عوام کو گندگی سے نجات مل سکے اور وہ پُر سکون کی زندگی گزار سکیں۔
