اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پہلی سماعت کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے
دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی کا کہنا تھا ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جارہی ہیں، جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کوصنعتی زون بنایا جا رہا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا ماحولیاتی آلودگی پورے ملک کا مسئلہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے؟
جسٹس نعیم اختر کا کہنا تھا ہاؤسنگ سوسائٹیز کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے ہیں، کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے ہمیں زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں
جسٹس محمدعلی مظہر کا کہنا تھا انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993 سے معاملہ چل رہا ہے، اب اس معاملے کو ختم کرنا ہو گا۔
آئینی بینچ نے صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
