
حیدرآباد(رپورٹ) قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہ دے کر لاکھوں ایکڑ اراضی کو بنجر بنا کر سندھ کو تباہ کیا جا رہا ہے، پانی کی مصنوعی قلت پیدہ کر کہ سندھ سے دشمنی کی جارہی ہے، ملک کے ڈیم، تربیلا اور منگلا ڈیم پانی سے بھرے ہوئے ہیں اور سندھ میں نہروں اور شاخوں میں پانی نہیں.
ارسا سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈال کر ڈیمز کو بھر رہی ہے، سندھ میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے۔ کوٹری کے نیچلے دریا میں پانی نہیں چھوڑا جاتا۔ سمندر میں پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ گیا ہے اور لاکھوں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی ہے، ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کو 26 فیصد کمی کے ساتھ پانی دیا جا رہا ہے۔ سندھ میں شجرکاری سے درختوں کی کاشت کی گئی ہے۔ دیگر فصلیں بھی کاشت ہو رہ ہیں.
چاول کی کاشتکاری بھی شروع ہونے والی ہے، جبکہ سندھ کو پانی کی اشد ضرورت ہے، اس کے باوجود پی ڈی ایم اور پی پی پی کے حکمران 26 فیصد کمی کے ساتھ سندھ کو پانی دے رہے ہیں، جسے زفاعت کو شدید نقسان پہنچے گا، ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کا پانی روک کر نہریں اور دیگر غیر قانونی نہروں میں پانی چھوڑا جا رہا ہے، ارسا نے پانی کی تقسیم میں سندھ کے ساتھ کبھی انصاف نہیں کیا، پانی کی قلت میں بھی سیلابی نہریں کھولنے سے سندھ میں مزید تھر جیسی سورتحال پیدہ کی جاتی ہے اور سیلاب کے دوران سندھ کو ہاتھ سے زیرآب کیا جاتا ہے، ارسہ اپنا رویہ درست کرے۔ وفاقی حکومت سندھ سے لاتعلق نہ رہے، پانی کے وزیر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، سندھ کو اس کے حصے کا پانی فی الفور دلوایا جائے، ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ حکمرانوں کی پالیسیوں نے سندھ کی زراعت، آبادگاروں اور کسانوں کو کنگال کر دیا ہے، کبھی فصلوں کے دہام گرائے جاتے ہیں توکبھی پانی کی کمی سے فصلیں تباہ کی جاتی ہیں.سندھ کے کسانوں اسی صورت میں تباہ کیا جاتا ہے کیا یے ہے عوامی حکومت، کبھی کاتھوں سے پیدہ کیا سیلاب یا شدید بارشوں کی وجہ سے آبادگار اور کسان سڑکوں پر آجاتے ہیں تو ان کے ساتھ نقصان کا ازالہ نہیں کیا جاتا، پی پی پی حکومت کے پاس آبادگاروں کی بحالی اور زراعت کا کوئی ایسا پروگرام نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی ایجنڈا ہے، ازالہ کے بجائے اپنے حصے کا پانی وقت کے مطابق نہیں دیا جقتا جس کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوا ہے، زرعی استعمال کے مشینوں کو بھی سستہ کیا جائیں۔ جعلی کھادوں، بیجوں اور ادویات کو روکا جائے اور معیاری کھاد، بیج اور ادویات کو سستا کیا جائے۔
