اسلام آباد: ایوان صدر میں فلسطین پر آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس میں بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان و رہنما شریک ہیں، شرکا نے اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششوں کا مطالبہ کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر مشرق وسطی کی صورتحال اور فلسطین کے موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی گئی جس میں صدر مملکت آصف زرداری، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف، وزیراعظم شہاز شریف، جے یو آئی کے سربراہ فضل الرحمان، سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سمیت اے این پی کے رہنما ایمل ولی خان، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم، یوسف رضا گیلانی، اسحاق ڈار، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ایک اس کانفرنس کے لیے وزارت خارجہ کا ڈرافٹ ہے اور ایک میرے دل کی آواز ہے، ہم نے پی ایل او کے یہاں دفاتر دیکھے، میں کئی بار یاسر عرفات سےملا، پاکستان کا پی ایل او کے ساتھ کوآپریشن رہا ہے، اسرائیل اپنی جارحانہ کارروائیوں میں اضافہ کرتا جارہا ہے اور یہ خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے اور فلسطین بالخصوص غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے دنیا اس بات کا سخت نوٹس لے۔
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ نہتے فلسطینی باشندوں پر جو ظلم ہورہا ہے وہ تاریخ کی بدترین مثال ہے، پورے پورے شہر کھنڈارت میں تبدیل کردیے گئے ماؤں سے بچے چھین کر والدین کے سامنے شہید کردیے گئے ایسا ظلم کہیں نہیں دیکھا، دنیا نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اقوام متحدہ اس معاملے پر بے بس بیٹھی ہے ان کی قراردادوں پر کوئی عمل نہیں ہورہا،
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کے ناسور کا سب سے پہلا فیصلہ 1917ء میں برطانیہ کے وزیر خارجہ دارفور کے جبری معاہدے کے تحت ہوا جس کے بعد یہودیوں کی بستیاں بسائیں گئیں، قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسے ناجائز بچہ کہا جبکہ اسرائیل کے صدر نے سب سے پہلا خارجہ پالیسی کے بیان میں کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی سب سے اولین بنیاد یہ ہوگی کہ دنیا کے نقشے پر ایک نوزائیدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہمارا مقصد ہوگا۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کس طرح کچھ لوگ پاکستان کے ٹیلی ویژن پر آکر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کرتے تھے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتوں پر تعجب ہے۔
کانفرنس سے جماعت اسلام کے سربراہ حافظ نعیم، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
