
چاول کے کاروبار کا مرکز کھلوانے والہ صوبائے سندھ کا ضلع قمبرشہدادکوٹ اب بدامنی کا گڑھ بن چکا۔
نوجوان وکیل خالد نور کھوسو نے سندھ ہائی کورٹ میں ایس ایس پی صدام خاصخیلی کے خلاف درخواست دائر کردی۔
درخواست گزار خالد نور کھوسو ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ضلع قمبر شہدادکوٹ میں اغوا، قتل، بھتہ خوری، جوا، منشیات کی فروخت اور ڈکیتی کی وارداتیں روز کا معمول بن گئی ہیں لیکن پولیس خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔

ایڈووکیٹ خالد نور کھوسو کا کہنا ہے کہ ضلع میں متعدد پولیس اہلکار ویزوں پر ہیں، ماورائے عدالت قتل اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ایس ایس پی کی مرضی سے متعدد تھانوں کے پلاٹ غیر قانونی طور پر فروخت کیے گئے۔ ایرانی تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور دیگر اشیاء کی اسمگلنگ کی اجازت دی گئی ہے۔
درخواست گذار ایڈووکیٹ خالد نور کھوسونے عدالت سے ایس ایس پی صدام خاصخیلی کی نااہلی کے خلاف انتظامی کارروائی اور اہل اور مجاز ایس ایس پی کی تقرری کی استدعا بھی کی ہے۔

