جسٹس نقوی آمدن اثاثہ کیس تحقیقات کیلیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے حوالے

قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں میں سردار ایاز صادق نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جسٹس مظاہر علی نقوی کے آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس تحقیقات کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بجھوایا جائے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ معزز جج صاحبان پر کافی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں ۔ ایک جج صاحب کی وجہ سے عدلیہ کی بدنامی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معزز جج مظاہر علی نقوی کو بتانا چاہیے کہ ان کے ذرائع آمدن کیا تھے،کہاں سے جائداد بنائی، ٹیکس کتنا دیا۔

پی اے سی آڈٹ اور نگرانی پارلیمان اور قائمہ کمیٹیوں کا اختیار ہے۔ پی اے سی 15 روز میں آڈٹ کروا کر رپورٹ پیش کرے۔

ڈپٹی اسپیکر نے جسٹس مظاہر علی نقوی کا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس تحقیقات کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں