جامعہ کراچی:شعبہ کمپیوٹرسائنس کے زیر اہتمام دوروزہ”کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھون“کا انعقاد

موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف ہماری نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کاکے لئے ناگزیر ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی

کراچی: موسم کی شدت میں تیزی سے اضافہ، شدید گرمی کی لہریں، طوفان اور سیلاب یہ تمام واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے قول و فعل میں تضاد ختم کر کے عملی اقدامات کی طرف پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن ہم موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے نشانے پر ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،کیونکہ ہمیں آنے والی نسلوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے اور اس کے لئے کثیر الشعبہ جاتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی سائنس یا پالیسی کا مسئلہ نہیں ہے،یہ ایک چیلنج ہے جس کے لئے انجینئرنگ، اقتصادیات، سوشیالوجی اور سب سے اہم کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ ایسے دور میں جہاں ڈیٹا فیصلے کرتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ صنعتوں کو تبدیل کر رہے ہیں، کمپیوٹر سائنس کا کردار ماحولیاتی اقدام میں ناگزیر ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی، اسپیشل سیکریٹری اینڈ ڈی جی لوکل گورنمنٹ ابوبکر،ڈی جی سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر نعمان احسن،سیفی برہانی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی،وائس چانسلر دیوان یونیورسٹی ڈاکٹراورنگزیب، رئیس کلیہ علوم پروفیسرڈاکٹر مسرت جہاں یوسف،ڈاکٹر محمد علی شیخ،امداد حسین صدیقی،ڈاکٹر طارق رحیم سومرو،چیئر مین شعبہ کمپیوٹرسائنس ڈاکٹر صادق علی خان،ودیگر شامل ہیں نے شعبہ کمپیوٹرسائنس جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیزٹیچرمیموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ دوروزہ  ”کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھون“  کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی دور جدید کا سب سے بڑا  چیلنج ہے، ایک ایسا عالمی بحران جو فوری اور تخلیقی حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے ایونٹس جیسے یہ آئیڈیاتھون ہمیں اپنے نوجوانوں کی اجتماعی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور عزم کو بروئے کار لانے میں کار آمد ثابت ہوتے ہیں تاکہ اس فوری مسئلے کو حل کیا جا سکے اورمذکورہ ایونٹ کا مقصد بھی زمین کا ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے تحفظ کے اقدامات پر زور دینا ہے۔

اسپیشل سیکریٹری اینڈ ڈی جی لوکل گورنمنٹ ابوبکر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جو مقامی عمل اور عالمی تعاون کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب ہم اس آئیڈیاتھون میں مشغول ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہر خیال، چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اس میں ایک اثر پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو اہم مثبت تبدیلیوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔ جو الگوردمز ہم ڈیزائن کرتے ہیں، جو سافٹ ویئر ہم تیار کرتے ہیں، اور جو نظام ہم تخلیق کرتے ہیں وہ سب ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ایک بڑی، عالمی کوشش میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

رئیس کلیہ علوم پروفیسرڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہاکہکلائمیٹ ایکشن صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے جو ہماری زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ سوچیں ایسی دنیا کو جہاں صاف ہوا، زرخیز زمین، اور ماحول ہو۔ یہ خواب صرف مخصوص کلائمیٹ ایکشن کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا یہ مشن ہونا چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو وراثت میں ایک ایسی زمین ملے جہاں وہ ترقی کر سکیں۔ کلائمیٹ ایکشن کو ترجیح دینے سے ہم نہ صرف اپنے سیارے کو بچا رہے ہیں بلکہ سماجی مساوات، برابری، اقتصادی ترقی، اور عالمی استحکام کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔

چیئر مین شعبہ کمپیوٹرسائنس ڈاکٹرصادق علی خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرہم نے تیزی ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے فی الفوراقدامات شروع نہیں کئے تو اس کے بہت خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ہمیں اس کو نظر انداز کرنے کے بجائے سنجیدہ لینے اور اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر صادق علی خان نے بتایا کہ اس دوروزہ کلائمیٹ۔ ایکشن آئیڈیاتھوناآئیڈیا پچنگ مقابلوں کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں 10 مختلف جامعہ کی چالیس ٹیموں نے حصہ لیا۔مقابلے میں پہلی،دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو کیش پرائززسے نوازاگیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں