
سعودی عرب دنیا کے بڑے پراجکٹس میں سے ایک The line کے نام سے ایک بہت ہی بڑا رہائشی پراجیکٹ لارہا ہے جس میں نہ تو کوئی گاڑی ہوگی اور نہ ہی کوئی روڈ۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کا ایک سو72 کلومیٹر لمبا یہ شہر 2030 سے پہلے مکمل ہوگا۔
یہ شہر بنانے کا خواب ہے سعودی عرب کے بادشاہ کنگ عبداللہ اور ان کے بیٹے محمد بن سلمان کا، دی لائن سٹی کو تین لیولس میں تعمر کیا جائے گا، جس میں Grond level, Service level and Spine level شامل ہے۔
گراؤنڈ لیول پر نہ تو کوئی روڈ ملی گی اور نہ ہی کوئی گاڑی چلے گی۔ یہ لیول ہوگی پیدل چلنے والوں کیلئے، اس لیول کو نیچرل ریسورسز سے بھردیا جائے گا ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔
سروس لیر پر روڈ بھی ہوگی اور گاڑی بھی ملے گی، مال بھی ہونگے اور شاپنگ سینٹرز بھی۔
سپائین لیول پر الٹرا ہائی اسپیڈ ٹرین چلے گی، مسافروں کا 172 کلومیٹرز کا یہ سفر صرف 20 منٹ میں ہوگا۔
ساحلوں پر موجود ساڑھی 4 ہزار بلند پہاڑوں کو نہ تو کاٹا جائے گا اور نہ ہی توڑا جائے گا۔ پہاڑوں میں ایک ولیج بھی قائم کیا جائے گا۔جس جگہ یہ شہر تعمیر کیا جارہا ہے وہاں پر دنیا بھر کی چالیس فیصد لوگوں کو چار گھنٹے لگے گے۔
دی لائن سٹی پر 500 بلین یو ایس ڈالرز لاگت کا پلان بنایا گیا ہے، جو پاکستان کے تقریبن 40 ہزار ارب روپے کے قریب رقم بن تی ہے۔
تعمیر کے پہلے حصہ کو مکمل بھی کیا گیا ہے جسے نیوم سٹی کہا جاتا ہے، جہاں پر شاہی خاندان کے شاہی محلات ہونگے، کسی عام شہری کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایئرپورٹ بھی قام ہوچکا ہے۔ سمندر کے پانی کو فریش واٹر بنایا جائے گا۔
