رہائشی عمارتوں کو کمرشل کرنے پر آباد کے تحفظات کو دیکھا جارہا ہے:سعید غنی

رہائشی عمارتوں کو کمرشل کرنے پر آباد کے تحفظات کو دیکھا جارہا ہے:سعید غنی

وزیر بلدیات کی زیر صدارت بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کا دوسرا اجلاس

وزیر بلدیات سندھ و چئیرمین بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی سعید غنی کی زیر صدارت کمیٹی کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیر اعلٰی سندھ کے مشیر برائے کچی آبادی سید نجمی عالم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ڈی جیز، میونسپل کمیشنر کے ایم سی، چیئرمین آباد حسن بخشی،  ممبر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت دیگر نے شرکت کی۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سندھ ماسٹر پلان، کچی آبادی، کے ایم سی و دیگر ادارے اپنے اپنے اداروں میں ڈیجیٹلائزیش کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی رپورٹ آئندہ ایک ہفتہ میں جمع کروائیں۔ سعید غنی

سعید غنی نے کہا کہ بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر بنائی گئی ہے اور اس کا مقصد بزنس کمیونٹی اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔تمام اتھارٹیز اس کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں اور ہدایات پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں۔

صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ تمام اتھارٹیز ڈویلپمنٹ کی مد میں گذشتہ 5 سال کے دوران جو وصولی کی ہے، اس کی تفصیلی رپورٹ بھی آئندہ ایک ہفتہ میں جمع کروائیں۔ تمام اتھارٹیز کی جانب سے ان کے پلاٹس ان کے مالکان کو قبضہ دئیے جانے اور جہاں پر مسائل ہیں یا تجاوزات ہیں اس تمام کی رپورٹ آئندہ ایک ہفتہ میں مرتب کرکے کمیٹی کو پیش کریں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ آباد و دیگر بزنس کمیونٹی کی جانب سے جن جن محکموں کو ڈویلپمنٹ کی مد میں ادائیگی کی گئی ہے ان کو اسی مد میں خرچ کئے جانے کی ڈیمانڈ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔کچی آبادیوں کے حوالے سے سندھ حکومت قانون سازی کررہی ہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی 60 گز سے 240 گز تک کے انفرادی مکان بنانے والوں کو ون ونڈو کے تحت فوری نقشوں کی فراہمی کے لئے ڈیزائن ان کے پلاٹ کی سائز کے تحت بنا کر تیار رکھے تاکہ وہ ان میں سے کسی ایک کو پسند کرکے فوری نقشہ حاصل کرسکے۔

سعید غنی نے کہا کہ رہائشی عمارتوں کو کمرشل کرنے کے ایس بی سی اے کے قانون پر آباد کے تحفظات کو بھی دیکھا جارہا ہے۔یہ قانون اس وقت ہزاروں کی تعداد میں رہائشی عمارتوں میں سالہا سال سے جاری کمرشل سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ان کو قانون میں لانے کی غرض سے لایا گیا ہے۔ آباد کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں ترامیم کی جاسکتی ہیں۔

آباد نے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کی مخالفت کردی،فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں