چیئرمین ٹاؤن کمیٹی کھیمے کا پار اور ٹاؤن افسر میں اختلافات، پی اے سی  نے رکارڈ طلب کرلیا

چیئرمین ٹاؤن کمیٹی کھیمے کا پار اور ٹاؤن افسر میں اختلافات، پی اے سی  نے رکارڈ طلب کرلیا

کراچی: پی اے سی میں عمرکوٹ ضلعے کے تحصیل ڈاہلی کی ٹاؤن کمیٹی کھیمے کا پار میں ٹاؤن چیئرمین اور ٹاؤن افسر کے درمیان اختلافات کے باعث ٹاؤن کا اتنظامی امور ٹھپ ہونے کا انکشاف سامنے آیا اور ٹاؤن کمیٹی کھیمے کا پار کے افسران اختلاف کے باعث پی اے سی  کو آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کرسکے۔

پی اے سی اجلاس میں ٹاؤن افسر کے ٹاؤن چیئرمین پر ٹاؤن کا تمام ریکارڈ اپنی تحویل میں رکھنے کے الزام پر پی اے سی نے محکمہ بلدیات کو ٹاؤن کمیٹی کھیمے کے پار کا تمام ریکارڈ تین دنوں میں حاصل کرنے اور معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔

پی اے سی نے سندھ بھر کی لوکل کونسلز میں ایمرجنسی کے نام پر متعدد کوٹیشنز پر کروڑوں روپے کی رقم خرچ ہونے پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے تمام لوکل کونسلز کو ٹینڈرز کے علاوہ  کوٹیشنز کرنے سے روک دیا۔

منگل کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی اراکین قاسم سومرو، مخدوم فخر الزمان،طاحہ احمد سمیت محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری، میونسپل کمشنرز اور  ٹاؤن افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں میرپورخاص ڈویزن کی لوکل کونسلز کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں عمرکوٹ ضلعے کے تحصیل ڈاھلی کی ٹاؤن کمیٹی کھیمے کا پار کے ٹاؤن چیئرمین اور ٹاؤن افسر کے درمیان اختلافات اور انتظامی امور ٹھپ ہونے کا اس وقت انکشاف سامنے آیا جب ٹاؤن افسر اعجاز خاصیلی نے آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی وضاحت دیتے ہوئے پی اے سی کو بتایا کے ٹاؤن کا تمام سرکاری ریکارڈ ٹاؤن کے چیئرمین ممتاز علی راہموں کی تحویل میں ہے اور وہ ریکارڈ ہمیں فراہم نہیں کر رہے ہیں جس کے متعلق ضلعی انتظامیہ ، ریجنل ڈاریکٹر اور محکمہ بلدیات کو تحریری شکایت بھیجی ہے اور ریکارڈ فراہم نہ ہونے کے معاملے پر پہلے بھی ایک ٹاؤن افسر معطل ہوچکا ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے سرکاری ریکارڈ اپنی تحویل میں رکھنے پر قانون کیا کاروائی تجویز کرتا ہے؟ کمیٹی رکن قاسم سومرو نے کہا کے پہلے مرحلے میں محکمہ بلدیات ٹاؤن کمیٹی کا تین دن میں ریکارڈ حاصل کرے اور معاملے کی تحقیقات کرائی جائے اور اگر ٹاؤن چیئرمین ملوث پائے گئے تو پہر ایکٹ کے تحت ٹاؤن چیئرمین کے خلاف کاروائی لوکل گورنمنٹ کمیشن کرسکتی ہے جس کو معاملہ بھیجا جاسکتا ہے۔

ریجنل ڈاریکٹر لوکل گورنمنٹ میرپورخاص نے کہا کے ٹاؤن چیئرمین ٹاون کے افسر کی پوسٹنگ سے خوش نہیں ہیں اس لئے وہ ریکارڈ نہیں دے رہے ہیں۔ ٹاؤن افسر نے پی اے سی کو بتایا کے ٹاؤن کے 93 ملازمین کی تنخواہوں پر ہر ماہ 64 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں اس کے علاوہ ٹاؤن میں کوئی کام نہیں ہوتا جبکے ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں ساڑھے تین کروڑ روپے موجود ہیں اور ٹاؤن چیئرمین کےکاؤنٹر دستخط کی وجہ سے بئنک بھی اسٹیٹمنٹ فراہم نہیں کر رہی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا کے ٹاؤن کمیٹی کھیمے کے پار کے کسی بھی علاقے میں ایک بھی ڈرینیج نالہ نہ ہونے کے باوجود ٹاؤن کمیٹی میں 15 سوئیپرز موجود ہیں جن پر ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو رہے ہیں۔ پی اے سی نے ٹاؤن افسر کیجانب سے ٹاؤن چیئرمین پر ٹاؤن کا تمام سرکاری ریکارڈ اپنی تحویل میں رکھنے کے الزام پر محکمہ بلدیات کو ٹاؤن کمیٹی کھیمے کے پار کا تمام ریکارڈ تین دنوں میں حاصل کرنے اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیتے ہوئے ذمیداران کا تعین کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پی اے سی میں لوکل کونسلز کیجانب سے ایمرجنسی کے نام پر ہر ماہ متعدد کوٹیشنز پر کروڑوں روپے کی رقم خرچ کرنے کا بھی معاملہ سامنے آیا اور پی اے سی نے کوٹیشنز کی بھرمار پر برھمی کا اظھار کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو ہدایت کی کے لوکل کونسلز میں ایمرجنسی کے بھانے متعدد کوٹیشنزز کے ذریعے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے عمل کو رکوایا جائے اور لوکل کونسلز ٹینڈرز میں جائیں اور اگر واقعی کہیں ایمرجنسی ہے تو کوٹیشن کے اسباب بتائیں جائیں۔ اجلاس میں پی اے سی نے تمام لوکل کونسلز سے سالانہ خریداری پلان بھی طلب کرلیا ہے۔

پی اے سی نے لوکل کونسلز میں ایک افسر کے پاس چار چار اضافی چارجز ہونے پر بھی برھمی کا اظھار کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو لوکل کونسلز میں افسران کی پوسٹنگ کا مکینزم بھی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں