سندھی اور مہاجر دشمن نہیں، ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔
تحریر۔ایاز محمد خان وارثی
جب میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا سندھی اور مہاجر واقعی ایک دوسرے کے خلاف ہیں؟ تو میرا ذہن فوراً ایک ہی جواب دیتا ہے: ہرگز نہیں!
دفاتر میں سندھی اور مہاجر ملازمین ایک ہی میز پر بیٹھتے، ساتھ کام کرتے اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ سندھی افسر ہو یا مہاجر افسر، باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہیں۔ پھر یہ مشہور کی گئی دشمنی آخر کہاں ہے؟
محلوں میں رہنے والے سندھی اور مہاجر ایک دوسرے سے روزانہ ملتے ہیں، ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے ہیں۔ عید اور بقرعید کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں، غمی میں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر دونوں واقعی دشمن ہوتے تو یہ محبت، یہ اعتماد اور یہ بھائی چارہ کیسے قائم رہتا؟
حقیقت یہ ہے کہ سندھی اور مہاجر کے درمیان نفرت نہیں، نفرت پھیلانے والے موجود ہیں۔ کچھ مفاد پرست عناصر کبھی نہیں چاہتے کہ دونوں قومیں مل جل کر رہیں، کیونکہ ان کے اتحاد میں عام سندھی اور عام مہاجر کی ترقی پوشیدہ ہے۔
اگر دونوں بھائی مل جائیں تو ترقی کے نئے راستے کھلیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور سندھ کا ہر شہر و شہری مضبوط ہوگا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس سے مفاد پرست عناصر خوفزدہ ہیں۔
اسی لیے سندھی اور مہاجر بھائیوں کے درمیان کدورتیں اور نفرتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کیونکہ سندھی اور مہاجر کا اتحاد دراصل مفاد پرست سیاست اور مفاد پرست عناصر کی شکست ہے۔
سندھی اور مہاجر دشمن نہیں، ایک دوسرے کی طاقت ہیں۔
ان کا اتحاد ہی سندھ کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
