دکھ ہے مجھے اس شہر کے برباد ہونے کا

دکھ ہے مجھے اس شہر کے برباد ہونے کا

تحریر شازیہ خلیل

میں کراچی کے جس درد کو بیان کرنا چاھتی ھوں وہ صرف ایک شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کی کہانی ہے ، میں ایک احساس کو ایک مؤثر طریقے سے باوقار اور درد دل سے بیان کرنا چاھتی ھوں ،، دکھ ہے مجھے اس شہر کے برباد ہونے کا ،، جہان میرا بچپن گزرا ،، کراچی کبھی بھی ایسا نہیں تھا جیسا اب ہے ،، ٹوٹی سڑکیں  کھلے گٹر  بغیر ڈھکن  کے   سیورج کے پانی سے بھری سڑکیں ان میں  بہتا ہوا گندا پانی مکھیاں مچھر کے یلغار ،، ،،ہنگام ٹریفک کچرا پانی بجلی اور ناکام انتظامیہ بے حسی کو اجاگر کیا گیا ماحول ، ، کراچی روشنی کا شہر یا مسائل کا نگر ،، کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، اج اپنے ہی باسیوں سے سوال کر رہا ہے ،، کہ اخر اس کا قصور کیا ہے شہریوں کی قسمت پہ بھی ترس اتا ہے کیا قسمت پائی ہے  کراچی کے شہریوں نے ،، یہ وہ شہر ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا بے شمار خاندانوں کو پناہ دی اور ملک کی معیشیت کو اپنے کندھوں پہ اٹھائے رکھا افسوس کہ اج یہی شہر دنیائیں سہولتوں کے لیے ترس رہا ہے۔ ،،،،

کراچی کی سڑکیں جگہ جگہ  سے کھدی ہوئی ہیں  کہیں ترقیاتی  کاموں کے نام پر راستے  بند ہیں تو کہیں  مہینوں سے کھدائی کے بعد سڑکیں دوبارہ تعمیر نہیں کی  گئی  شہری روزانہ ٹریفک اژدھام میں پھنس کر اپنا قیمتی وقت ذہنی سکون اور توانائی کھو دیتے ہیں ،، ایمبولنس ہو یا سکول جانے والے بچے ، دفتر جانے والے ملازمین ہو یا بیمار بزرگ ،، ہر شخص اس بے ہنگم نظام کا شکار ہے۔پانی جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے کراچی میں نایاب ہو چکا ہے کئی علاقوں میں لوگ ہفت و پانی کے لیے ترس رہے ہیں ٹینکروں کے رحم و کرم پہ زندگی اب معمول بن چکی ہیں

کراچی میں قانون انتظامیہ کا احساس کمزور  بڑھتا دکھائی دیتا ہے  ٹریفک قوانین کی  خلاف ورزی تجاوزات   ہشیات اسٹریٹ کرائم  اور روز بڑھتی بد عنوانی نے شہریوں میں خوف بے بسی پیدا کرتی دی ہے جنگل میں بھی قانون ہوتا ہے ،،،،، بجلی کا ناکام نظام

بجلی کی لوڈ شیڈنگ غیر اعلانیہ بندشیں  اور والٹیج کا مسئلہ زندگی اجیرن ہو چکی ہے کاروبار تعلیم گھریلو زندگی سب متاثر ہو رہی ہیں ،، کراچی کے عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ،،سرکاری ہسپتالوں میں بستر نہیں ادویات نہیں عملا کم ہے مریضوں کو گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے غریب اور پسماندہ طبقات متوسط طبقہ علاج کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ،، بلدیاتی اداروں کے زہر اثر ہسپتالوں میں بنیادی سہولتیں ہی میسر نہیں ہیں غریب کی پہنچ  پرائیویٹ اسپتالوں سے دور ہے ،، کراچی کی گلیاں سڑکیں کچرے کی ڈھیر بن چکی ہیں جگہ جگہ تعفین بیماریاں اور گندگی نے شہر کی خوبصورتی کو داغدار کر دیا ہے صفائی کا نظام صرف کاغذوں میں موجود ہے حقیقت میں نہیں ،،۔ یہ شہر کسی ایک طبقہ یا ادارے کا نہیں ہے ،، بلکہ ہم سب کا ہے اس کی بہتری کے لیے حکومت بلدیاتی اداروں شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،، اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوگی ،،، اور شہریوں کو بھی ،، قانون کی پاسداری، میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.

صفائی اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہوگا  کراچی صرف عمارتوں سڑکوں بازاروں کا نام نہیں ہے یہ لاکھوں خوابوں امیدوں اور محنت کش لوگوں کا مسکن ہے اس شہر کو نظر انداز کرنا دراصل ان لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر روز اس کی ترقی کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں ،کراچی کو محض وعدوں کی نہیں سنجیدہ توجہ دیانت دار قیادت اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے ،، ائیے ہم سب مل کر اس شہر کو دوبارہ ایسا کراچی بنانے کا عزم کریں ، جہاں سڑکیں محفوظ ہوں جہاں اسپتالوں میں بنیادی ضروریات موجود ہوں ،، جہاں کوئی عورت ہسپتال کے دروازے پر  بچے کو جنم نہ دے سکے ،، جہاں کی گلیاں صاف ہیں جہاں پانی اور بجلی میسر ہو جہاں  انصاف کا بول بالا ہو جہاں ہر شہری عزت سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے کیونکہ کراچی صرف ایک شہر نہیں ہماری پہچان ہماری امید ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ہے ،،،ائیے  کراچی کی ترقی کے لیے ایک ساتھ ایک ہو جائیں .

اللہ سے دعاء ہے کہ کراچی کے حالات بہتر ہوں یہاں امن ہوں صفائی ہو پانی اور بجلی کی فرامی بہتر ہو ہسپتالوں میں بنیادی سہولتیں ہوں ٹریفک کا نظام درست ہو اور ہر شہری کو اس کا حق ملے.

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں