ناول ’’ماضی‘‘ ایک کامیاب تخلیق ہے ،پروفیسر سحر انصاری
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام نوجوان لکھاری ذیشان قمر کے پہلے ناول ’’ماضی‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر و ادیب پروفیسر سحر انصاری نے کی، جبکہ اخلاق احمد، عنبریں حسیب عنبر، زیب اذکار حسین، ناصرہ زبیری،ذیشان قمر اور شکیل خان نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام دیے۔
اس موقع پر ذیشان قمر کے ناول ’’ماضی‘‘ کے ساتھ نیا گانا ’’MaZee‘‘ بھی ریلیز کیا گیا اس نئے اور جدید انداز سے کتابی کی رونمائی کو ہال میں بیٹھے لوگوں نے بہت پسند کیا اور خوب داد دی، خطبہ صدارت میں پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ آج نئے لکھاری نئے انداز سے ناول تخلیق کررہے ہیں جو خوش آئند بات ہے۔ ’’ماضی‘‘ میں فکشن کی بنیادی خوبی، یعنی قابلِ مطالعہ ہونا، ابتدا ہی سے نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماریہ ناول کا ایک پیچیدہ اور اہم کردار ہے جسے مصنف نے آخر تک خوبی سے نبھایا ہے۔ ناول میں محبت، فلسفے، مصنوعی ذہانت اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات کو بھی فکری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ناول ’’ماضی‘‘ ایک کامیاب تخلیق ہے اس پر میں ذیشان قمر کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔آرٹس کونسل ادبی کمیٹی (فکشن) کے چیئرمین اخلاق احمد نے کہا کہ ’’ماضی‘‘ میں اورنگی ٹاؤن کے ماحول، معاشرت، زبان اور سماجی رویوں کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ناول کا ابتدائی حصہ اورنگی ٹاؤن کی معاشرت کی مضبوط تصویر پیش کرتا ہے، تاہم بعد میں سری لنکا، بنکاک اور امریکا منتقل ہونے سے اس اثر میں کسی حد تک کمی محسوس ہوتی ہے۔ محبت کا جنون اور اس کی نفسیاتی کیفیت ناول کا اہم پہلو ہے۔
معروف شاعرہ عنبریں حسیب عنبر نے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں جب انسان کے پاس وقت کم اور توجہ مسلسل بکھراؤ کا شکار ہے، ناول کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مختصر ویڈیوز اور تحریریں وقتی لطف تو فراہم کرتی ہیں، لیکن انسانی فکر اور روح کی گہری تسکین کا سامان نہیں بن سکتیں۔ ناول قاری کو ایک مکمل اور مربوط دنیا سے جوڑتا ہے، جہاں وہ کرداروں کے جذبات، انسانی وجود کے پیچیدہ مسائل اور زندگی کی گہرائیوں کو محسوس کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذیشان قمر فلسفے کے طالب علم ہیں اور ان کا ناول محض ایک روایتی عشقیہ داستان نہیں۔ اس کے مرکزی کردار ذیشان اور ماریہ ضرور ہیں، لیکن ناول کا اصل مرکزی کردار کراچی اور بالخصوص اورنگی ٹاؤن ہے۔ اورنگی ٹاؤن یہاں محض ایک علاقہ نہیں بلکہ ہجرت، انسانی جدوجہد، بقا کی جنگ، سیاسی ابتری، تصادم اور ناسازگار حالات کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ ناول میں محبت، یادداشت اور اجتماعی المیے کو اس خوبصورتی سے باہم جوڑا گیا ہے کہ ماضی محض ایک فرد کی شکست یا محبت کی داستان نہیں رہتا بلکہ پورے عہد، قوم اور تاریخی جبر کا فکری مرقع بن جاتا ہے۔
ذیشان کا کردار حساس ہے، سچ سے فرار اختیار نہیں کرتا اور اپنے عہد کی اذیت کو محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے ناول کو گہری اور بامعنی تخلیق قرار دیا۔ معروف فکشن نگار زیب اذکار حسین نے کہا کہ ذیشان قمر کے ہاں منفرد تخلیقی اور فکری رویہ نظر آتا ہے۔’’ماضی‘‘ میں زندگی، محبت، انسانی تجربات اور ماضی کے تعلق کو مربوط انداز میں پیش کیا ہے، جو اسے محض داستان کے بجائے ایک سنجیدہ ادبی کاوش بناتا ہے۔
ناصرہ زبیری نے کہا کہ ماضی کے حالات اور تجربات مستقبل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ’’ماضی‘‘ صرف ذیشان کے عشق کی کہانی نہیں بلکہ اس کے گرد موجود سماجی ماحول، رشتوں اور تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اورنگی ٹاؤن کے پس منظر میں مختلف گروہوں کی کشمکش اور سماجی حقیقتوں کو فطری انداز میں کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
شکیل خان نے کہا کہ ذیشان قمر نے اورنگی کی گلیوں سے آرٹس کونسل تک کا سفر بڑی جلدی مکمل کیا۔ انہوں نے ناول میں اورنگی ٹاؤن، رحمت چوک اور دیگر مقامات کے ذکر کو اپنی یادوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ذیشان کے اندر سے جس طرح اورنگی ٹاؤن نہیں نکلتا، اسی طرح ان کے اندر سے لیاقت آباد کبھی نہیں نکلتا۔ انہوں نے ناول کی اشاعت پر ذیشان قمر کو مبارک باد پیش کی۔
مصنف ذیشان قمر نے کہا کہ آج کی شام میرے لیے صرف ناول کی رونمائی نہیں بلکہ میری شناخت، گزرے ہوئے وقت اور میرے احساسات کا جشن ہے جنہوں نے میری شخصیت اور تحریر کو تشکیل دیا۔ میں اتنی شاندار تقریب کے انعقاد پر میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کا شکر گزار ہوں جو نئے لکھنے والوں کو آگے لا رہے ہیں ان کی فن و ثقافت کے فروغ کے لیےخدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ناول کی تخلیق کے اہم محرکات میں اورنگی ٹاؤن، اپنے دادا، دادی، نانا اور نانی کے ساتھ گزارا ہوا وقت اور عام لوگوں کی زندگیوں سے حاصل ہونے والے تجربات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں گزرے بچپن کی یادوں میں ان کی دادی کا پاندان، دادا کی لاٹھی، نانی کے ہاتھ کا کھانا اور نانا کے ساتھ کتابوں، شاعری اور فلسفے پر ہونے والی گفتگو خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان رشتوں سے ملنے والی محبت، تربیت اور فکری وسعت نے ان کے اندر ایک لکھاری کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن نے مجھے عام لوگوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع دیا۔چائے کے ہوٹلوں پر مختلف خیالات اور پس منظر رکھنے والے لوگوں کی گفتگو سننا، ان کے تجربات کو سمجھنا اور زندگی کو ان کی نظر سے دیکھنا میرے لیے اہم تجربہ رہا، جو بعد میں تحریر کا حصہ بنتا گیا۔ ذیشان قمر نے کہا کہ ’’ماضی‘‘ کو صرف ایک کہانی سمجھنے کے بجائے اس میں موجود انسانی اور اخلاقی اقدار کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔میری خواہش ہے کہ جب کوئی قاری ناول پڑھے تو اسے اپنی زندگی کا کوئی کردار، شخص یا لمحہ یاد آجائے اور وہ کتاب بند کرکے کچھ دیر سوچنے پر مجبور ہوجائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو میرا ناول لکھنے کا مقصد پورا ہوجائے گا۔
