فیضان عباس کی کامیابی پوری سندھ کی کامیابی
تحریر: نسرین سید
بدین سے لندن تک—خواب جدوجہد تعلیم اور کامیابی کا شاندار سفر
کچھ سفر صرف شہروں اور ملکوں کے درمیان طے ہونے والے فاصلے نہیں ہوتے بلکہ وہ محرومیوں سے مواقع تک محدود وسائل سے عالمی شناخت تک اور والدین کے خوابوں سے اولاد کی کامیابی تک پہنچنے کی داستان بن جاتے ہیں بدین سے لندن تک فیضان عباس کا سفر بھی عزم علم قربانی اور ثابت قدمی کی ایک ایسی ہی متاثرکن کہانی ہے
سندھ کے نسبتا پسماندہ ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے اس باصلاحیت نوجوان نے کبھی اپنے حالات کو اپنی منزل کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ فیضان عباس نے اپنی ذہانت مسلسل محنت اور علم حاصل کرنے کی بے پناہ جستجو سے ثابت کیا کہ چھوٹے شہروں میں جنم لینے والے خواب کبھی چھوٹے نہیں ہوتے۔ انہیں حقیقت بنانے کے لیے مضبوط ارادے مسلسل محنت، درست رہنمائی اور والدین کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
تعلیم کا قابلِ فخر سفر
فیضان عباس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کی ممتاز درس گاہ یونیورسٹی آف ایبرڈین کا انتخاب کیا جہاں اس نے کمپیوٹنگ سائنس میں فرسٹ کلاس آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ فرسٹ کلاس آنرز حاصل کرنا کسی بھی طالب علم کے لیے ایک غیرمعمولی تعلیمی کامیابی تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس کے لیے نصابی مضامین کے ساتھ تحقیق پروگرامنگ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت تنقیدی سوچ اور عملی منصوبوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھانا ضروری ہوتا
کمپیوٹنگ سائنس کی تعلیم کے دوران فیضان نے کمپیوٹر پروگرامنگ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ڈیٹا مینجمنٹ الگورتھمز جدید کمپیوٹنگ نظام اور نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز جیسے اہم شعبوں میں علم اور عملی مہارت حاصل کی اس تعلیمی بنیاد نے اسے جدید ٹیکنالوجی کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا
کمپیوٹنگ سائنس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد فیضان اب مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت عصرِ حاضر کا ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ ہے، جس میں مشین لرننگ، ڈیٹا اینالیسس،l خودکار نظام ذہین سافٹ ویئر اور انسانی مسائل کے جدید تکنیکی حل شامل ہیں
فیضان کا تعلیمی سفر محض ڈگریاں حاصل کرنے تک محدود نہیں وہ علمی، تحقیقی اور بین الاقوامی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہا ہے اور اپنی تخلیقی سوچ تکنیکی قابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر منوا رہا ہے۔ یہ کامیابی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اگر سندھ کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مناسب رہنمائی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دنیا کے کسی بھی علمی اور تکنیکی میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں
عالمی سطح پر نمایاں شناخت
PIEoneer Awards 2026 کی “International Alum of the Year” کیٹیگری میں دنیا بھر کے آخری چھ امیدواروں میں فیضان عباس کی شمولیت محض ایک انفرادی اعزاز نہیں، بلکہ بدین کی مٹی سندھ کی ذہانت اور پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیت کا عالمی اعتراف ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد کے درمیان آخری چھ امیدواروں تک پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فیضان نے نہ صرف اپنی تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھائی بلکہ اپنے کردار، علمی سرگرمیوں اور بین الاقوامی سطح پر مثبت خدمات کے ذریعے بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی
فیضان کی یہ کامیابی سندھ کے ان ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت بنانا چاہتے ہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ کامیابی کسی مخصوص شہر خاندان یا معاشی حیثیت کی محتاج نہیں ہوتی کامیابی ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو مسلسل سیکھتے محنت کرتے اور مشکلات کے سامنے ثابت قدم رہتے ہیں
کامیابی کے پس منظر میں والد کی قربانیاں
ہر روشن کامیابی کے پیچھے کچھ ایسے ہاتھ ضرور ہوتے ہیں جو خود پس منظر میں رہ کر کسی دوسرے کے مستقبل کو روشن کرتے ہیں فیضان عباس کی کامیابی کے پیچھے اس کے والد محترم عاشق خواجہ کی انتھک محنت بے مثال قربانی، ثابت قدمی اور اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے مسلسل حوصلہ افزائی کا بنیادی کردار ہے
ایک باپ اپنی اولاد کو منزل تک پہنچانے کے لیے بہت سے ایسے سفر طے کرتا ہے جنہیں دنیا نہیں دیکھ پاتی وہ اپنی خواہشات کو محدود کرتا ہے، اپنے آرام کو قربان کرتا ہے اور اپنی اولاد کی آنکھوں میں بسنے والے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے خاموشی سے جدوجہد کرتا رہتا ہے
عاشق خواجہ بھی انہی عظیم والدین میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کی صلاحیتوں کو بروقت پہچانا اس پر اعتماد کیا اور مشکل حالات میں اس کا حوصلہ بنے۔ انہوں نے فیضان کو نہ صرف تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے بلکہ ہر مرحلے پر اسے آگے بڑھنے اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے اور بلند اہداف حاصل کرنے کی طاقت بھی دی
آج جب فیضان عالمی سطح پر بدین سندھ اور پاکستان کا نام روشن کر رہا ہے تو اس کامیابی میں اس کے والدین کی بے شمار دعائیں فکری پریشانیاں، جاگتی راتیں اور خاموش قربانیاں بھی شامل ہیں دنیا شاید ان قربانیوں کا مکمل حساب نہ رکھ سکے لیکن اولاد کی کامیابی والدین کی تمام محنت اور قربانیوں کا سب سے بڑا اعتراف ہوتی ہے
فیضان عباس کی کہانی سندھ کے ہر نوجوان کو یہ واضح پیغام دیتی ہے
اپنے شہر کے چھوٹے ہونے کو اپنے خوابوں کی حد نہ بنائیں وسائل کی کمی کو ناکامی کا جواز نہ بنائیں حالات آپ کی زندگی کی شروعات ضرور متعین کر سکتے ہیں لیکن آپ کی آخری منزل کا فیصلہ آپ کی محنت علم نظم و ضبط اور ثابت قدمی کرتی ہے
زندگی کے راستے ہمیشہ ہموار نہیں ہوتے کبھی ناکامی سامنے آتی ہے کبھی وسائل کم پڑ جاتے ہیں اور کبھی لوگ آپ کی صلاحیتوں پر شک کرتے ہیں لیکن جو نوجوان خود پر یقین رکھتا ہے مسلسل علم حاصل کرتا ے اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے اس کے لیے دنیا کی کوئی بھی منزل ناممکن
تمہاری کامیابی صرف تمہاری ذاتی فتح نہیں، بلکہ تمہارے والدین کی قربانیوں کا ثمر، بدین کے نوجوانوں کے لیے امید اور پوری سندھ کے لیے فخر کا ایک روشن باب ہے
دعا ہے کہ تمہارا علمی اور تحقیقی سفر مزید بلندیوں تک پہنچے اور تم اپنے علم، قابلیت، کردار اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اپنی دھرتی، اپنے ملک اور پوری انسانیت کی خدمت کرتے رہو
بدین کی مٹی سے اٹھ کر برطانیہ کے علمی ایوانوں تک پہنچنے والے فیضان عباس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاؤں کے نیچے زمین کتنی ہی محدود کیوں نہ ہو، اگر آنکھوں میں بڑے خواب، دل میں مضبوط حوصلہ، ذہن میں علم کی جستجو اور ساتھ والدین کی دعائیں ہوں تو آسمان کی بلندیاں بھی منزل بن جاتی ہیں۔
