ہمدرد یونیورسٹی اسپتال میں عالمی یوم ہپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی مناسبت سے خصوصی سائنسی سیمینار

ہمدرد یونیورسٹی اسپتال میں عالمی یوم ہپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی مناسبت سے خصوصی سائنسی سیمینار

کراچی: پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن(پائم) نے ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے اشتراک سےگزشتہ روز نعمت بیگم ہمدرد یونیورسٹی اسپتال میں عالمی یوم ہپاٹائٹس کی مناسبت سے تذکارِ حکمت کے عنوان سے ملک میں ہپاٹائٹس کے بڑھتے کیسوں پر آگہی فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی سائنسی سیمینار منعقد کیا، جس میں طبِ مشرق اور جدید طب سے وابستہ ماہرین، اساتذہ، معالجین، محققین اور طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد تقریب کی مہمانِ خصوصی تھیں۔

سیمینار کے مہمان مقرر ڈاکٹر حکیم سید ظہور الحسن زیدی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فیکلٹی آف ایسٹرن میڈیسن، ہمدرد یونیورسٹی نے ہپاٹائٹس پر اپنی تحقیق پیش کی اور بتایا ہپاٹائٹس ایک خاموش مگر انتہائی مہلک مرض ہے، جس سے نمٹنے کے لیے صرف علاج ہی نہیں بلکہ بروقت تشخیص، احتیاطی تدابیر، عوامی آگاہی اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ہپاٹائٹس کی بنیادی طور پر پانچ اقسام (A، B، C، D اور E) ہیں، جن میں ہر قسم کی منتقلی، علامات اور علاج کا طریقۂ کار مختلف ہے۔ ہپاٹائٹس اے اور ای عموماً آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے پھیلتے ہیں، جبکہ ہپاٹائٹس بی، سی اور ڈی زیادہ تر آلودہ خون، غیر محفوظ سرنجوں، غیر معیاری طبی آلات، خون کی منتقلی اور بعض دیگر ذرائع سے منتقل ہوتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ہپاٹائٹس بی اور سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اس مرض سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے 2030 تک ہپاٹائٹس کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے بروقت تشخیص، ویکسی نیشن، مؤثر علاج اور عوامی آگاہی کو بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہپاٹائٹس بی اور سی کا بوجھ تشویشناک حد تک بڑھ رہی  ہے۔ ملک میں ہپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجوہات غیر محفوظ انجکشن، غیر معیاری طبی و دندان سازی کے آلات، آلودہ خون کی منتقلی، حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات اور عوام میں بیماری سے متعلق آگاہی کا فقدان ہیں۔ ہپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے محفوظ انجکشن کا استعمال، خون کی مؤثر اسکریننگ، ویکسی نیشن، صاف پانی کی فراہمی، جراثیم سے پاک طبی آلات کا استعمال اور عوام میں مسلسل آگاہی ناگزیر ہے۔ اگر احتیاطی اقدامات پر بھرپور توجہ دی جائے تو اس مرض کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ یونانی طب میں جگر کے تحفظ (Hepatoprotective) کے حوالے سے متعدد تحقیقی مطالعات موجود ہیں۔ ہمدرد یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں اس موضوع پر پی ایچ ڈی، ایم فل اور مختلف تحقیقی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن میں جگر کے افعال کے تحفظ اور ادویات کی افادیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ روایتی ادویات کی عالمی سطح پر قبولیت کے لیے مضبوط سائنسی شواہد، معیاری کلینکل تحقیق اور Evidence-Based Medicine کے اصولوں کے مطابق مزید تحقیق ناگزیر ہے۔ یونانی طب کے ماہرین بنیادی صحت کی سہولیات (Primary Healthcare) میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں جہاں صحت کی بنیادی سہولیات محدود ہیں۔ اگر یونانی طب کے تربیت یافتہ گریجویٹس کو قومی صحت کے نظام میں مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ غیر متعدی امراض کے ساتھ ساتھ جگر کی بیماریوں کی روک تھام، ابتدائی تشخیص اور عوامی آگاہی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پائم کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان نے کہا کہ پائم کا بنیادی مشن صرف علاج فراہم کرنا نہیں بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے احتیاط، تعلیم، تحقیق اور آگاہی کو فروغ دینا بھی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمدردپاکستان مستقبل میں بھی عوامی صحت سے متعلق ایسے سائنسی اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ بیماریوں کی بروقت روک تھام اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں