گڈاپ ٹاؤن چیئرمین کی زیر صدارت عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ افسران کے ساتھ اہم اجلاس
کراچی: ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گڈاپ کے چیئرمین طارق عزیز بلوچ نے گڈاپ ٹاؤن آفس میں علاقائی معززین کی درخواست پر مختلف عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔
افسرمالیات افتخار حسین دایو،ڈائر یکٹر(ایچ آر ایم) ہمایوں عمران خان کے ہمراہ اجلاس میں پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، سیوریج، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس,سولر سسٹم اور دیگر بلدیاتی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر علاقائی معززین نے اپنے علاقوں کے درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جن پر چیئرمین نے متعلقہ افسران کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔
چیئرمین طارق عزیز بلوچ نے ا س موقع پر کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ہماری اولین ترجیح ہے اور شہریوں کو بنیادی بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ٹاؤن انتظامیہ عوام کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ صفائی ستھرائی، نکاسی آب، فراہمی آب، سڑکوں کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی جیسے بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ہے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کو اراکین کونسل کی مشاورت سے ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور جاری ترقیاتی و بلدیاتی کاموں کی باقاعدگی سے نگرانی کریں۔عوام کا اعتماد ہماری طاقت ہے اور ان کی توقعات پر پورا اترنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر میونسپل کمشنر ملک مجتبیٰ ایاز نے اپنے پیغام میں کہا کہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گڈاپ شہریوں کو بہترین بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ علاقائی معززین کی نشاندہی پر تمام متعلقہ محکموں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ مسائل کے حل میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے اور ہر شکایت پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس موقع پرسپرنٹنڈنٹ انجینئر (ایم اینڈ ای) نور علی جمالی، ڈائریکٹر انفارمیشن رضوان صابر،ڈائریکٹر پینشن جلال حنیف، ڈائریکٹر کانٹریکٹ مینجمنٹ ناصر بلوچ، ڈائریکٹر اسپورٹس طاہر بلوچ، انچارج واٹر ٹینکر اسلم بروہی، سب انجینئر ظفر بلوچ، کمپیوٹر آپریٹر ڈاڈا آدم جو کھیو اور پی ایس چیئرمین لعل جان نبی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
