کراچی سمیت پورے سندھ میں پانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے:سردار رحیم

کراچی سمیت پورے سندھ میں پانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے:سردار رحیم

کراچی: پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبد الرحیم نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے اگر سندھ کو اس کے آئینی اور قانونی حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا تو پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرے۔سندھ کے پانی کے معاملے پر صرف بیانات اور نمائشی احتجاج نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنے جاری بیان میں سردار عبد الرحیم نے کہا کہ سندھ کے عوام کے بنیادی حقوق، زراعت ، معیشت اور مستقبل پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ سندھ کے حصے کا پانی روکنے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام بھرپور جمہوری جدوجہد کریں گے۔ گڈو اور کوٹری بیراج میں پانی کی مسلسل کمی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارسا 1991ء کے آبی معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا مکمل حصہ فراہم کرے۔ پانی کی مسلسل کٹوتیوں سے سندھ کی زراعت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی وفاق میں شامل ہو کر سندھ کے عوام کو صرف بیانات سے مطمئن نہیں کر سکتی۔اگر سندھ کے مفادات واقعی مقدم ہیں تو سندھ حکومت کو فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

سردار عبد الرحیم نے کہا کہ صرف لفظی احتجاج سے سندھ کے حقوق اور مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔ پانی کی کمی کے باعث سندھ کی زرعی زمینیں متاثر اور کاشتکار مشکلات کا شکار ہیں۔کراچی شہر سمیت پورے سندھ میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ بدین، ٹھٹہ اور ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کی دراندازی سے ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی۔ سندھ کو فوری طور پر اس کے حصے کا مکمل پانی فراہم کیا جائے۔سندھ کے عوام مزید ناانصافی برداشت نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں