کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا شہر بھر میں بلک فلو میٹرنگ سسٹم کا آغاز
کراچی: شہر میں طویل عرصے سے مسائل کا شکار پانی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) نے ایک جدید بلک فلو میٹرنگ سسٹم کی تنصیب شروع کر دی ہے جس کے ذریعے پانی کی تقسیم کے نظام میں شفافیت، مؤثریت اور ڈیٹا پر مبنی انتظامی بہتری لائی جائے گی،یہ جدید نظام ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرے گا جس کے ذریعے شہر بھر میں پانی کی فراہمی کا درست اندازہ اور نگرانی ممکن ہو سکے گی.
سندھ حکومت کے تعاون اور ورلڈ بینک کی معاونت سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کے تحت یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے، اس کا مقصد پانی کی غیر مساوی تقسیم، غیر حساب شدہ پانی کے ضیاع اور غیر مؤثر بلنگ جیسے دیرینہ مسائل کا حل نکالنا ہے،منصوبے کے تحت تقریباً 100 مانیٹرنگ چیمبرز شہر کے مختلف اہم مقامات پر قائم کیے گئے ہیں تاکہ پانی کے بہاؤ کو منظم اور مانیٹر کیا جا سکے، جدید الٹراسونک فلو میٹرز، جو پاکستان میں پہلی بار استعمال کیے جا رہے ہیں اور آواز کی لہروں کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، حاصل کر لیے گئے ہیں۔ یہ میٹرز اہم مقامات جیسے اجمیر پمپ ہاؤس، ناگن چورنگی، یونیورسٹی ریزروائرز، بنارس پمپ ہاؤس، کورنگی ماڈل پارک، حب ریزروائر، NEK ریزروائر، چنگی ناکہ اور گھارو پمپنگ اسٹیشن سمیت دیگر مقامات پر نصب کیے جائیں گے،پائلٹ مرحلے میں شہر کے 43 اہم مقامات پر بلک فلو میٹرز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی کی درست نگرانی کی جاسکے، یہ نظام ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرے گا جس کے ذریعے حکام پانی کی کمی، ضیاع میں کمی اور رہائشی، تجارتی و صنعتی صارفین کے لیے منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا سکیں گے.
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے پانی کی فراہمی کو شہر کا سب سے اہم شہری مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں مؤثر پیمائشی نظام کی عدم موجودگی نے تقسیم اور آمدن دونوں کو متاثر کیا، انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ شفاف اور منصفانہ بلنگ کے نظام کی بنیاد رکھے گا،اس منصوبے کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی جس میں مستقبل میں تجارتی، صنعتی اور بعد ازاں گھریلو صارفین تک بھی میٹرنگ کا نظام بڑھایا جائے گا، مکمل نفاذ کے بعد یہ نظام ہر گھر، کاروبار اور صنعت کو فراہم کیے جانے والے پانی کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ فراہم کرے گا جس سے کراچی کے پانی کے نظام میں جوابدہی اور پائیداری کو فروغ ملے گا۔
