ملیر جیل کے قیدیوں کو باہر نکالنا غلط فیصلہ تھا: وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا تقریب سے خطاب

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اس سینٹر کا افتتاح کیا ہے اس میں زہنی اور جسمانی بیماریوں کا علاج کیا جائے گا ، سندھ حکومت کے ڈی ای پی ڈی اقدامات میں سی آرٹس سینٹرز بہتر طریقہ سے خدمت کر رہے ہیں۔آج پہلا دن ہے اور پہلے دن ہی پچاس بچوں کا داخلہ یہاں ہوا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ خصوصی بچوں کے لئے مختلف شہروں میں بحالی مرکز بنائیں گے۔ایم اے ایل سی کی لیپروسی کے حوالے سے اقدامات قابل تحسین ہے۔شاہراہ بھٹو کے ساتھ خصوصی بچوں کا بڑا بحالی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں ایک ساتھ ہزاروں بچوں کا علاج ہو گا۔کراچی میں چار، گمبٹ ، لاڑکانو، ٹنڈو محمد خان، نوابشاہ، میں بحالی مراکز بنائے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ سال انکلوژو سٹی بنانے کے اعلان کیا تھا،شاہراہ بھٹو سے ساتھ 85 ایکڑز اراضی پر انکلوژو سٹی قائم کیا جائے گا،اس منصوبہ میں مخیر حضرات کا بھی ہمیں ساتھ ہے، ہم سندھ کے لوگوں کے ساتھ دوسرے صوبوں کی عوام کو بھی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر روتھ فاؤ نے 1962ء میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر (MALC)   قائم کیا تھا،ڈاکٹر روتھ فاؤ  کی کوڑھ (جذام) کے حوالے سے خدمات قابل تحسین ہیں۔وہ لوگ جن کو خدمت کرنے کا جذبہ ہےان کا ہمیں ساتھ چاہئے۔میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کی صورت میں ہمیں ایسا ادارہ ملا ہے۔MALC مراکز کو سندھ حکومت کا بھرپور تعاون رہے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ملیر جیل کے واقع پر تشویش ہے اس پر تحقیقات چل رہی ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کے بعد قیدیوں کو نکالا گیا،ملیر جیل کے قیدیوں کو باہر نکالا گیا یہ غلط فیصلہ لیا گیا زمہ داروں کو سزا ملے گی۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ایسا عمل نہیں ہونا چاہیے تھا ایک قیدی کی ڈیتھ ہو گئی ،216 قیدی فرار ہو ئے تھے 83 قیدی پکڑے گئے ہیں۔فرار ہونے والے قیدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ سرنڈر کر دیں نہیں تو اے ٹی سی کے مقددمات کو سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ بجٹ 13جون کوپیش کی جائےگی،سندھ کے بجٹ میں زراعت کے شعبے کواہمیت ہوگی، کے الیکٹرک نجی تحویل میں دینے سے پہلے سندھ حکومت کو اعتماد میں نہیں کیا گیا۔کے الیکٹرک بورڑ میں صوبائی کی کوئی نمائندگی نہیں، وفاقی نمائندے ہیں۔کے الیکٹرک بورڈ کے اندر صوبے کے نمائندے ہونے چاہیے۔

زلزلے کے جھٹکے: ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں