کراچی: جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کسی زمین یا خطے کے حصول کے لئے نہیں بلکہ یہ آزادی کی تحریک اور سوچ ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جیل کشمیر ہے،جہاں لوگوں کو گھروں تک محدود اور بنیادی سہولیات سے محروم کردیاگیاہے اور جولوگ آزادی کے لئے یا قابض بھارتی حکومت کے خلاف آوازاُٹھاتے ہیں انہیں غائب کردیاجاتاہے یا پھر ماردیاجاتاہے۔انٹرنیشنل فورمزجس میں ہیومن رائٹس، اقوام متحدہ ودیگر شامل ہیں کوجن اصولوں کے لئے قائم کیا گیا تھا وہ اس میں ناکام نظرآتے ہیں۔اقوام متحدہ،عالمی طاقتوں اور دیگرانٹرنیشنل فورمز کے دوہرے معیار کومسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر نے دنیا کے سامنے عیاں کردیاہے کیونکہ یہ ادارے مسلمانوں اور غیرمسلموں کے لئے الگ الگ پیمانے استعمال کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے دفتر مشیر امورطلبہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کی سماعت گاہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ من حیث القوم ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو مایوس اور دلبرداشتہ نہیں ہوناچاہیئے بلکہ ہمیشہ حق اور سچ کے لئے آواز اُٹھانی چاہیئے۔ہمارے حکمرانوں کو دنیا بھر میں ہر فورم پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے آوازاُٹھانی چاہیئے۔مجھے خوشی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اُٹھارہی ہے اور آج طلباوطالبات کے مختلف گروپس نے جس طرح اپنی تقریروں،شاعری اورڈاکومینٹریز کے ذریعے کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کی عکاسی کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔
انہوں نے کراچی یونیورسٹی تھیٹر اینڈ ڈرامہ سوسائٹی کی جانب سے ایک ڈرامہ شناخت کے ذریعے جس طرح کشمیریوں کی حریت کو اجاگراور ان پر ہونے والے بھارتی مظالم کی عکاسی کی ہے اس ثابت ہوتاہے کہ ہماری نوجوان نسل کشمیریوں کے حقوق سے بخوبی واقف اور ان کی آزادی تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس موقع پر سوک اینڈ سوشل ریسپانسی بیلیٹی سوسائٹی جامعہ کراچی نے ڈاکومینٹری بعنوان:آخرکب تک پیش کی جبکہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی جانب سے تقاریر،میوزک سوسائٹی کی جانب سے نغمے،کوئزسوسائٹی کی جانب سوال وجواب کا سیشن اورتھیٹر اینڈ ڈرامہ سوسائٹی کی جانب سے ایک ڈرامہ بعنوان: ”شناخت“ پیش کیا گیا جس کو حاضرین نے بیحد سراہا۔تقریب میں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلباوطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
