سندھ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں،وفاق بجٹ بڑھائے: سردار شاہ

کراچی: وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں بہتر نتائج کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو مارکس لینے کی دوڑ سے نکال کر سیکھنے کے عمل کی طرف واپس لے کر آنا ہوگا، تعلیمی بورڈ میں کوانٹٹی کے بجاۓ کوالٹی بیسڈ اسسمینٹ کی ضرورت ہے، رواں سال بورڈز کی طرف سے ہونے والے امتحانات بورڈز کے اپنے نظام کا بھی امتحان ہونگے، کیوں کے اس کے بعد طے کرنا آسان ہوگا کہ ہم تھرڈ پارٹی اسسمینٹ کے لیے نجی شعبے سے گذارش کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وفاقی وزارت تعلیم کے ادارے انٹر بورڈ کوآرڈینشن کمیشن کی زیر اہتمام “ماڈل اسسٹنٹ فریم ورک” کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیمنار کے موقع پر اپنے خطاب میں کیا

داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے آڈیٹوریم میں ہونے والے سیمنار میں انٹر بورڈ کوآرڈینشن کمیشن کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح، سابق ڈائریکٹر جنرل اکیڈمک اسلام آباد ڈاکٹر نعیم خالد، وائس چانسلر داؤد یونیورسٹی ڈاکٹر ثمرین حسین، چیئرمین انٹر بورڈ کوآرڈینشن کمیشن سید شرف علی شاہ، ملک کے مختلف سرکاری اور نجی بورڈز کے چیئرمینز، اساتذہ اور دیگر اسٹیک ہورڈرز نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت تھرڈ پارٹی اسسمینٹ کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، بہتر اسسمینٹ سے ہی ہمارے نظام تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، ہمارے پاس پڑھانے والا اور کاپی چیک کرنے والا دونوں ایک ہی ہیں، خود کو چانچنے کے لئے تھرڈ پارٹی اسسمینٹ کا انتخاب  اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ جائزہ لیا جا سکے کہ ہم کس طرح نظام میں تعلیم میں بہتری لا سکتے ہیں

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس طریقہ کار کو مزید بہتر کرنے کہ ضرورت ہے، صوبائی وزیر نے تجویز دیتے ہوۓ کہا کہ یونیورسٹیز کی داخلا کے لیے بورڈ کے پرسنٹیج کے شرط کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہم نے بچوں کو مارکس کی دوڑ میں لگایا ہوا ہے یونیورسٹیز میں داخلا کے لیے بورڈ کے نتائج کا شرط ختم کرنے سے بچے مارکس کی دوڑ سے نکل کر سیکھنے کی طرف زیادہ دھیان دیں گے اور رٹا لگانے سے بھی بچ جائیں گے۔

سید سردار علی شاہ نے کہا کہ تھرڈ پارٹی اسسمینٹ کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ میڈیکل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ لینے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا، لیکن ایک ادارے نے اپنی ساکھ کو بحال رکھتے ہوۓ ایک مثال قائم کی، رواں تعلیمی سال بورڈ کے اپنے نظام امتحان کا اپنا امتحان ہوگا جس سے یہ طے کرنے کرنا ہوگا کہ ہم آئیندہ امتحانات کے لیے نجی شعبے کی مدد لیں۔

صوبائی نے کہا کہ وفاق کی طرف سے آنے والے ہر بہتر عمل کی حمایت کرتے ہیں، مگر تعلیم کی ترقی کے حوالے سے وفاق کو تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہیک کی طرف سندھ کی یونیورسٹیز کی گرانڈ بڑھائی جاۓ کیوں کہ سندھ کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہیں شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

اس موقع پر انٹر بورڈ کوآرڈینشن کمیشن کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے اپنے خطاب میں کہا کہ انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) رکن امتحانی بورڈز اور منسلک اداروں کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کے لیے ایک فورم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کا مینڈیٹ معلومات کے تبادلے، مشترکہ عمل درآمد کے لیے پالیسیاں بنانے، جدید تکنیکوں کے ذریعے امتحانی نظام میں تبدیلی، اور اساتذہ اور امتحانی عملے کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مشتمل ہے

انہوں نے مزید واضح کیا کہ باہمی مشاورت سے والی خامیوں کو دور کرنے اور اسسمنٹ کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے، IBCC نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منسلک محکموں کے تعاون سے پاکستان کے لیے سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح کے لیے ہی اس ماڈل اسسمنٹ فریم ورک کو تشکیل دیا گیا ہے

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے مزید کہا کہ اس وقت ملک بھر کے 29 سرکاری اور نجی امتحانی بورڈز ہمارے مشاورتی فورم کا حصہ ہیں ہمارا مقصد نویں سے 12 کلاسز کے امتحانی عمل کو مؤثر بناتے ہوۓ 21 ویب سے عالمی ضروریات کے تحت آگے بڑھنا ہے۔

ہائبرڈ لرننگ کے موضوع پر سابق ڈائریکٹر جنرل اکیڈمک اسلام آباد ڈاکٹر نعیم خالد روشنی ڈالی، وائس چانسلر داؤد یونیورسٹی ڈاکٹر ثمرین حسین نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ ایک پینل ڈسکشن کا سیشن بھی رکھا گیا جس میں آغا خان یونیورسٹی امتحانی بورڈ کے ایکزیکٹیو ڈائیریکٹر نوید یوسف، ایبٹ آباد بورڈ کے چیئرمین شفیق عوان اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں