جماعت اسلامی کا ایران سے اظہار یکجہتی اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کا اعلان
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ایرانی حکومت و عوام سے اظہار یکجہتی اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کو تثلیث خبیثہ اور ٹرمپ کی سربراہی میں بننے والے غزہ امن بورڈ کو ڈھکوسلا قرار دیا۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان فوری طور پر نام نہاد غزہ امن بورڈ سے نکل آئے۔ حکومت اور اپوزیشن کھل کے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کی مذمت کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ و اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کو ایران میں شکست سے دوچار کرنا بے حد ضروری ہے۔ خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو صہیونی تسلط پاکستان کی سرحد تک پہنچ جائے گا اور خدانخواستہ اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔ حکومت پہلے کی طرح ایران کے معاملہ پر واضح اور دوٹوک موقف اپنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو جنگی مجرم قرار دیا جانا چاہیے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگ مسلط کی ہے اور سیاسی قیادت کونشانہ بنایا ہے جو تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، ٹرمپ نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں جنگ کا آغاز 176بچوں کو شہید کرکے کیا ہے۔ مغرب کی اس بدترین ظلم پر خاموشی اس کے دہرے معیار کو عیاں کرتی ہے۔ غزہ میں اسرائیل نے امریکی آشیر باد سے اسی ہزار معصوموں کو شہید کردیا۔
انہوں نے کراچی میں امریکی قونصل خانہ کے سامنے مظاہرین پر گولیاں برسانے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی شہادتوں کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ دہرایا۔ امیر جماعت اسلامی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے پوری قوم اور تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جمعہ کے مظاہروں میں بھرپور شرکت کی بھی اپیل کی۔
امیر جماعت اسلامی نے پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کی حکومتوں پرزور دیا کہ معاملات کو گفت و شنید سے حل کیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں ممالک معاملات کی نزاکت کو سمجھیں،اسلام آباد، کابل ا من کو موقع دیں۔
اس موقعے پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد محمد اسلم، ڈپٹی سیکرٹری جنرل فراست شاہ اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

