پاکستان اور جاپان کے مابین دوستی کے فروغ میں محمد عظمت اتاکا کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں:شاہدہ خورشید
کراچی: حلقہ فکر و نظر اور پی اے سی سی کے زیر اہتمام صدارتی ایوارڈ یافتہ سابق مشیر قونصل جنرل جاپان محمد عظمت اتاکا کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد پاکستان امریکن کلچر سینٹر میں کیا گیا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی سابق وزیرِ قانون، انصاف، انسانی حقوق و پارلیمانی امور بیرسٹر شاہدہ جمیل تھیں جبکہ عبداللہ فیروز، سہیل پی احمد،سلیم مغل، اویس ادیب انصاری، وضاحت نسیم اور فرحانہ اویس سمیت دیگر مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔
تقریب کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر ویسٹ عمران الحق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی سعادت پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ پروین اور الماس نایاب نے حاصل کی۔
حلقہ فکر و نظر کی چیئرپرسن شاہدہ خورشید نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور جاپان کے مابین دوستی کے فروغ میں محمد عظمت اتاکا کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے جاپان کو پاکستان کی ثقافت سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا۔
اس موقع پر شاہدہ خورشید نے اپنے منظوم کلام کے ذریعے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر محمد عظمت اتاکا نے کہاکہ اتنی شاندار تقریب کے انعقاد پر میں شاہدہ خورشید اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،میں سمجھتا ہوں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد حوصلہ افزائی کی بہترین مثال ہے۔
مہمانِ خصوصی سابق وزیرِ قانون، انصاف، انسانی حقوق و پارلیمانی امور بیرسٹر شاہدہ جمیل نے اظہارِ خیال میں عظمت اتاکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ اتاکا صاحب کو صدارتی ایوارڈ بلاشبہ ان کے خدمات کے عیوض ملا ، میں سلام پیش کرتی ہوں حلقہ فکر و نظر کی چیئرپرسن شاہدہ خورشید اور ان کی ٹیم کو کہ انہوں نے یہ اتنی شاندار تقریب عظمت اتاکا صاحب کے اعزاز میں منعقد کی اور ایک عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
حلقہ فکر و نظر کی نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ پروین نے کہاکہ ایک تو نام عظمت دوسرا اللہ تعالیٰ نے نام کی مناسبت سے جو ان کو ذمہ داریاں دیں تو وہ کیسے ناں اس کی لاج رکھتے ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کچھ مخصوص اور انسانیت کی خدمت کے کاموں کے لیے چن لیتا ہے تو یہ انتخاب عظمت اتاکا کے حصے میں ہی آیا اور انہوں نے اپنی ذمہ داری حسن و خوبی سے انجام دی۔ عبداللہ فیروز، جو مختلف سماجی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، حکومت کی جانب سے سول اسپتال میں جھلسے ہوئے افراد کے لیے برن سینٹر کے قیام کا منصوبہ انہیں سونپا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم مقصد کے لیے اللہ سے مدد طلب کی، اور اللہ تعالیٰ نے ایسی مدد فرمائی کہ پہلا عطیہ پچاس لاکھ روپے کی صورت میں موصول ہوا، جس سے منصوبے کی بنیاد رکھی گئی۔ اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں عظمت اتاکا صاحب کا بھرپور کردار ہے۔
انہوں نے کہاکہ اتاکا صاحب ایک فرشتہ صفت انسان ہیں اللہ پاک انہیں ہمت اور صحت دے اور انہیں ہر مقصد میں کامیاب کرے۔
اویس ادیب انصاری نے اپنے خطاب میں عظمت اتاکا کے اس پہلو کو اجاگر کیا جب وہ پاکستان آئے اور اسلام قبول کرکے یہاں کی ثقافت اور معاشرے کو دل سے اپنایا اور ابولاخیر کشفی صاحب کی بھانجی آصفہ اتاکا سے شادی کی۔ PACC کے صدر مخدوم ریاض صاحب نے اپنی تقریر میں حلقہ فکر و نظر کی چیئرپرسن شاہدہ خورشید کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ آج کی محفل و باوقار محفل تھی اور جس عظیم شخصیت کے لیے منعقد کی وہ شخصیت عظمت اتاکا ہیں۔
فرحانہ اویس نے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی وی میں ملازمت کے دوران انہیں آرٹس کونسل میں منعقدہ جاپانی گڑیوں کی نمائش کی کوریج کا اسائنمنٹ ملا، جہاں عظمت اتاکا نے بھرپور معاونت کی، جس کے نتیجے میں ان کی رپورٹ کو بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔
سلیم مغل نے کہا کہ ان کی عظمت اتاکا سے دوستی پچاس برس پر محیط ہے۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور مختلف منصوبوں میں ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے عظمت اتاکا کی دیانت داری اور فرض شناسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرکاری گاڑی کو ذاتی کاموں کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ان کا سمدھی ہوں، ان کی بیٹی فاطمہ میری بہو ہے۔
