گل پلازہ کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا بیان سامنے آگیا

گل پلازہ کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا بیان سامنے آگیا

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) گل پلازہ کے حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس میں نشر ہونے والی خبروں کو یکسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتی ہے۔ یہ تاثر دینا کہ گل پلازہ کا ریکارڈ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس موجود نہیں، درست نہیں ہے۔

ایس بی سی اے کے پاس گل پلازہ سے متعلق تمام منظور شدہ ریکارڈ، نقشہ جات، کمپلیشس پلان اور تعمیراتی تفصیلات محفوظ اور دستیاب ہیں۔ گل پلازہ کی عمارت  1979ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی جبکہ

1998ء (KBCA / kDA/ DCB-1/ Revised / 98-4/98/08 dated 21-9–1998)

میں ریوائزڈ پلین منظور کروایا تھا ۔

بعد ازاں ریگلرائیزیشن امینڈمینٹ آرڈینینس 2001 کے تحت  باقاعدہ قواعد و ضوابط کے تحت پراجیکٹ 2003 میں ریگولرائز کیا گیا تھا ۔

ریوائزڈ نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ  فور سیل اینڈ ایڈورٹائز کا اجرا 2005 میں کیا گیا جس کے مطابق بیسمینٹ میں 175 , گراؤنڈ فلور پہ 355, فرسٹ فلور پہ 188,سیکنڈ فلور پہ 193 اور تیسری منزل پہ 191 دکانو کی منظوری دی گئی تھی  جس کے تحت ٹوٹل دکانو کی تعداد 1102 بنتی ہے

بلڈنگ میں بیسمینٹ سے گراؤنڈ فلور تک جانے کے لیہ دو سیڑھیاں ، گراؤنڈ فلور سے پہلے منزل پہ جانے کے لیہ چھ سیڑھیاں ، دوسری منزل سے تیسری منزل پہ جانے کے لیہ پانچ سیڑھیاں اور بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر اخراج کہ لئے 16 راستے بلڈنگ پلان میں موجود ہیں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ ادارہ حقائق کو چھپانے یا ریکارڈ غائب ہونے کے کسی تاثر کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ گل پلازہ سے متعلق تمام قانونی و تکنیکی ریکارڈ دستیاب ہے۔ ایس بی سی اے مکمل تعاون اور شفاف تحقیقات پر یقین رکھتی ہے اور ذمہ داری کے تعین کے لیے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں