ورلڈ کلچر فیسٹیول میں اردو اور سندھی زبان میں ڈرامے پیش، شائقین کی جانب سے پذیرائی

ورلڈ کلچر فیسٹیول میں اردو اور سندھی زبان میں ڈرامے پیش، شائقین کی جانب سے پذیرائی

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39 روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے13ویں روز ”فلم اسکریننگ“، اردو تھیٹر”کھیلتے رہو“ اور فرانسیسی ڈرامہ نگاریاسمینہ رضا کا لکھا ہوا تھیٹر ”آرٹ“ سندھی زبان میں پیش کیے گئے۔

فیسٹیول کا آغاز ”Central / South Asian Stories “ کے نام سے ”فلم اسکریننگ“ میں ایران اور تاجکستان کی مشترکہ پروڈکشن سے تیار کردہ فلم "Fish on the Hook”اور "Scent of Life”(افغانستان ) سے کیاگیا جس میں شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فلم "Fish on the Hook” کے ڈائریکٹر Muhiddin Muzaffa تھے ، فلم کی کہانی 10سالہ لڑکے” Daler “کے گرد گھومتی ہے جو ایک جواری (جس کا نام صمد ہے) کے ساتھ اپنی ماں کو تلاش کرنے کے لیے سفر پر نکلتا ، راستے میں Daler مختلف چیلنجز کا سامنا کرتا ہے اور اس سفر کے دوران اس کی شخصیت نکھرتی دکھائی دیتی ہے، بچوں کے نقطہ نظر سے فلم خاندان کی اہمیت پر زور دیتی دکھائی دی جبکہ "Scent of Life” ایک طالب علم کو اپنے دوست کے لیے تحفہ تیار کرتے دکھایا گیا

فلم فارسی زبان میں تھی جس کے ڈائریکٹرSayed Mohsen Hossaini تھے۔ فلم اسکریننگ کے آخر میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے ستیش آنند کو گلدستہ پیش کیاگیا۔ معروف مصنفہ و ہدایت کارہ ثمینہ نذیر کا اردو تھیٹر پلے ”کھیلتے رہو“ اردو زبان میں پیش کیاگیا جس میں سمحان غازی اور چنا کرپلانی نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا، ڈرامے میں دکھایا گیا کہ کس طرح سرد اور تنہا رات میں ایک عورت اپنے ننھے بچے کو گود میں لیے خراب موسم سے بچنے کے لیے ایک فلیٹ میں داخل ہوتی ہے جہاں امید اور خوف سے بھری ایک جذباتی دنیا جنم لیتی ہے، ”کھیلتے رہو“ ایک ”غیر حقیقی“ نوعیت کا ڈرامہ تھا ، تھیٹر میں”الف لیلہ“ کا حوالہ بھی شامل تھا جہاں ”شہرزاد“ ہر رات ایک نئی کہانی سناتی دکھائی دی ۔ تیرہویں روز کے آخر میں فرانسیسی ڈرامہ نگار، اداکارہ، ناول نگار اور اسکرین رائٹر یاسمینہ رضا کا لکھا ہوا ڈرامہ ”آ رٹ“ سندھی زبان میں پیش کیا گیا جس کے ڈائریکٹر تھیٹر اداکار پارس مسرور تھے جبکہ فنکاروں میں ارشاد شیخ، نادر حسین اور عمیر بھٹو نے بہترین اداکاری کے جوہر دکھائے۔

تھیٹر پلے ”آرٹ“ فن اور دوستی کے بارے میں سوالات اٹھاتا دکھائی دیا، جہاں تین پرانے دوستوں”سرج، مارک، اور ایوان“ سرگرم نظر آئے۔ ”سرج“ جسے جدید آرٹ کا شوق ہوتا ہے، ایک بڑی، مہنگی اور بالکل سفید پینٹنگ خرید لیتا ہے، جس پر ہلکی سی کم سفید لکیریں بنی ہوتی ہیں، ”مارک“ اس بات پر سخت حیران اور پریشان ہوتا ہے کہ سرج نے اتنی بڑی رقم ایک ایسی پینٹنگ پر ضائع کر دی، جسے وہ ”فن“ نہیں سمجھتا، ان دونوں کے درمیان ”فن کے تصور“ پر اختلاف شدت اختیار کر لیتا ہے اور ان کی دوستی میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں، ان کا تیسرا دوست ”ایوان“، جو پہلے ہی ذہنی دباﺅ کا شکار ہے، اس تنازع کے درمیان پھنس جاتا ہے۔وہ دونوں کو خوش رکھنے اور صلح کروانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس کی یہ کوششیں صورتحال کو مزید بگاڑ دیتی ہیں۔ اردو اور سندھی دونوں تھیٹروں میں فنکاروں کی پرفارمنس کو بہت پسند کیا گیا جس کے جواب میں شائقین نے خوب تالیاں بجاکر فنکاروں کو داد دی۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے تحت روزانہ کی بنیاد پر مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اہلیان کراچی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ عالمی ثقافتی فیسٹیول 7 دسمبر تک آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری رہے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں