چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ لینڈ گریبنگ کے خلاف 32 صفحات پر مشتمل ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ 6 ماہ کے دوران کئی ممبران کی زمینوں سے قبضے چھڑائے گئے۔آباد کی طاقت ممبران کی سپورٹ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اداروں اور ممبران کے درمیان کوئی خلا نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوٹیک کے اشتراک سے 50 لاکھ روپے کے اسکالرشپ پروگرام کے تحت 50 طلبہ کو میرٹ پر وظائف دیے جا رہے ہیں، جن میں کراچی کے طلبہ کو ترجیح حاصل ہوگی۔
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس (اے جی ایم) آباد ہاؤس کے جناح ہال میں منعقد ہوا جس میں آباد کے سابق چیئرمین ناور الائیڈ پینل کے سرپرست اعلیٰ محسن شیخانی، چیئرمین آباد محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی سمیت بڑی تعداد میں ممبران شریک ہوئے۔
اجلاس میں موجودہ قیادت نے اپنی ایک سالہ کارکردگی پیش کی اور آئندہ کے اہداف طے کیے۔ اس موقع پر چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے
اپنی ٹیم کی سالانہ کارکردگی پر اجلاس میں بتایا کہ ہم قبضوں کے مسئلے پر چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی فیسلیٹیشن کمیٹی کا حصہ بننے کا موقع بھی ملا، جب کہ حکومت نے نوجوانوں کی ٹریننگ کے لیے آباد کو 7 کروڑ روپے دیے ہیں، اور امید ہے آئندہ سال یہ رقم 40 سے 50 کروڑ تک بڑھائی جائے گی۔ یہ آباد کی تاریخ کا انقلابی اقدام ہے جس کے تحت انجینئرنگ سے وابستہ طلبہ چار سالہ کورس مکمل کریں گے۔
چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے مزید کہا کہ پہلی بار آباد میں ان ہاؤس ایکسپو منعقد ہوئی جس میں فی کمپنی ایک لاکھ روپے کے اسٹال فراہم کیے گئے تاکہ انڈسٹری اور ممبران براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں۔حسن بخشی کے مطابق ایف ای ڈی کا خاتمہ، 50 کروڑ روپے کے فنڈز کی فراہمی، ریگولرائزیشن کے قوانین کے لیے حکومتی درخواست، کچی آبادیوں کے لیے قانون سازی اور بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کی نظرثانی جیسے اقدام بھی کیے گئے۔اب بلڈنگ کے معاملات میں صرف بلڈر نہیں بلکہ متعلقہ افسران بھی جواب دہ ہوں گے۔
آباد کے سابق چیئرمین محسن شیخانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آباد جلد آئی ٹی ٹیکنالوجی پارک قائم کرے گا تاکہ نئے لوگوں کو موقع مل سکے۔ انھسوں نے گوادر کے لیے آواز بلند کرنے والی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ممبران کو ستارہ امتیاز ملنا خوش آئند ہے۔انٹرنیشنل سرٹیفکیشن میں سندھ کے طلبہ پیچھے رہ جاتے ہیں حالانکہ یہ بچے مستقبل کے معمار ہیں۔
انوں نے کہا کہ ہمیں کراچی میں کام کرنے پر زمینوں پر قبضے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ اپنے لوگوں کا تحفظ کیا جائے۔محسن شیخانی نے مزید کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری اسٹاک ایکسچینج سے بھی بڑی ہے لیکن اس کی اہمیت تسلیم نہیں کی جاتی۔
سینئر وائس چیئرمین افضل حمید نے بتایا کہ اکتوبر میں ذمے داری سنبھالنے کے بعد فنانس منسٹری اور چیئرمین ایف بی آر کے ساتھ ون ٹو ون ملاقاتیں کی گئیں،جب کہ لینڈ گریبنگ کے خلاف 32 صفحات پر مشتمل ڈرافٹ تیار کیا گیا۔ 6 ماہ کے دوران کئی ممبران کی زمینوں سے قبضے چھڑائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ آباد کی طاقت ممبران کی سپورٹ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اداروں اور ممبران کے درمیان کوئی خلا نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوٹیک کے اشتراک سے 50 لاکھ روپے کے اسکالرشپ پروگرام کے تحت 50 طلبہ کو میرٹ پر وظائف دیے جا رہے ہیں، جن میں کراچی کے طلبہ کو ترجیح حاصل ہوگی۔
