ھینڈس اور سرسو سمیت سندھ میں 8 این جی اوز کو بلیک لسٹ کرنے اور رجسٹریشن ختم کرنے کا حکم

ھینڈس اور سرسو سمیت سندھ میں 8 این جی اوز کو بلیک لسٹ کرنے اور رجسٹریشن ختم کرنے کا حکم

کراچی: پی اے سی نے سندھ حکومت کیجانب سے کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت ھینڈس اور سرسو سمیت دیگر این جی اوز کو جاری 8 کروڑ روپے سے زائد کی فنڈنگ سے اخراجات اور انوائیسز سمیت دیگر آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر 8 این جی اوز کو بلیک لسٹ کرکے ان کی رجسٹریشن اور لائسنس کینسل کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پی اے سی نے ھینڈس اور سرسو سمیت 8 این جی اوز کی رجسٹریشن اور لائسنس کینسل کرنے کے لئے محکمہ سوشل ویلفیئر کو ہدایت جاری کرنے کا حکم دے دیا

پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین خرم کریم سومرو، مخدوم فخرالزمان، طاحہ احمد سمیت سیکریٹری محکمہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ سجاد عباسی اور دیگر متعلقہ افسران کی شرکت۔ اجلاس میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ کی سال 2019 اور 2020ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت سندھ کی 8 این جی اوز کو ہیلتھ اور اسکل ڈولپمنٹ کے منصوبوں کے لئے 8 کروڑ روپے سے زائد کی فنڈنگ ہونے اور این جی اوز کی جانب سے فنڈنگ سے منصوبوں پر اخراجات اور انوائیسز سمیت دیگر آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ حکومت کیجامب سے کن این جی اوز کو کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت کن منصوبوں کے لئے کتنی فنڈنگ جاری ہوئی۔

ڈی جی پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام نے کہا کہ سندھ کی 16 این جی اوز کو  2018ع میں  ہیلتھ، اسکل ڈولپمنٹ، اسکل ایجوکیشن کے منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کئے گئے جن میں 8 این جی اوز 8 کروڑ روہے سے زائد کی فنڈز سے اخراجات سمیت دیگر آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کر رہی ہیں۔

ڈی جی پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام نے کہا کہ جو این جی اوز 8 کروڑ کی فنڈنگ کا ریکارڈ فراہم نہیں کر رہی ہیں ان میں ھینڈز، ایس آر ایس او، آئی بی اے کراچی، ھیلتھ ایجوکیشن لٹریسی پروگرام ( ھیلپ)، اینگرو فائونڈیشن، وومین اینڈ چلڈرین میڈیکل کیئر ٹرسٹ ، ڈسٹرکٹ ڈولپمنٹ ایسوسیئیشن تھرپارکر سمیت دیگر این جی او شامل ہیں۔

ڈی جی محکمہ پلاننگ نے کہا کہ ھینڈز کو ہیلتھ کے منصوبے کے لئے ایک کروڑ 85 لاکھ، سرسو کو اسکل ٹریننگ کے لئے 2 کروڑ 54 لاکھ روپے ، ہیلپ کو ہیلتھ کے منصوبے کے لئے 2 کروڑ 27 لاکھ روہے،  اینگرو فاؤنڈیشن کو ایجوکیشن کی مد میں 9 لاکھ 35 ہزار روپے ، وومین اینڈ چلڈرین میڈیکل ٹرسٹ کو ہیلتھ کے منصوبے کے لئے 1 کروڑ دو لاکھ روہے، آئی بی اے کراچی کو اسکل ایجوکیشن کے لئے 11 لاکھ 80 ہزار روپے  اور ڈسٹرکٹ ڈولپمنٹ ایسوسیئیشن تھرپارکر کو اسکل ڈولپمنٹ کے لئے 2 کروڑ 27 لاکھ روپے فنڈز فراہم کئے گئے۔

ڈی جی پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام نے کہا کہ مذکورہ 8 این جی اوز کو فنڈز سے کئے گئے خرچوں، ووچرز اور انوائیسز  کی تفصیلات سمیت ایس آر بی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کا ریکارڈ طلب کرنے کے لئے تین نوٹیسز جاری کئے گئے ہیں تاہم یہ این جی اوز آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کر رہی ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ ٓجن این جی اوز نے آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا ہے ان این جی اوز کی رجسٹریشن اور لائسنس کینسل کیا جائے۔ پی اے سی نے  کمیونٹی ڈولپمنٹ پروگرام کے تحت  8 کروڑ روپے سے زائد کی فنڈنگ سے اخراجات اور انوائیسز سمیت دیگر آڈٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے والی سرسو، ھینڈز ، ہیلپ سمیت 8 این جی اوز کو بلیک لسٹ کرنے اور ان کی رجسٹریشن سمیت  لائسنس کینسل کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اجلاس میں سندھ کے تین اضلاع کندھکوٹ ایٹ کمشور، جیکب آباد اور شکارپور کی ایک سو یونین کونسلز میں یونین کونسل بیسڈ پاورٹی رڈکشن پروگرام کے تحت سرسو کو ایک ارب روپے کی جاری فنڈنگ سے سرسو کیجانب سے بیواھ خواتین کو سلائی اور کڑھائی کے لئے 10،10 ہزار روپے کا انٹریسٹ فری لون دینے کے بجائے غریب خواتین سے 10 ہزار روپے کے لون پر 8 سے 10 فیصد مارک اپ انٹریسٹ لینے کا انکشاف سامنے آیا۔

۔ سرسو کے سی ای او کا تحریری طور پر  پی اے سی کو جمع کرائے گئے لیٹر میں خواتین سے مارک اپ انٹریسٹ لینے کا اعتراف۔

سی ای او سرسو نے کہا کہ خواتین کو سلائی کڑھائی کی مد میں 10ہزار کا انٹریسٹ فری لون دیا گیا تھا جن سے کوئی مارک اپ انٹریسٹ نہیں لیا گیا ہے۔ منٹس میں مارک اپ لینے کی بات غلطی سے درج ہوگئی ہے۔سرسو نے ولیج آرگنائیزیشن کو خواتین کو لون دینے کے لئے رقم فراہم کی تھی۔

پی اے سی نے سندھ کے تین اضلاع کی ایک سو یوسیز کے لئے ایک ارب روپے کی سرسو کو جاری فنڈنگ سے سرسو کیجانب سے غریب خواتین کو فی کس 10ہزار روپے کے لون کی مد میں مارک اپ انٹریسٹ لینے یا نہ لینے کے معاملے کی محکمے کو فیکٹ فائینڈنگ تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔

اجلاس میں 2018ع سے 2024ع تک سندھ کے 6 اضلاع خیرپور میرس، سانگھڑ ، میرپورخاص، بدین، اور ٹھٹھہ میں غربت کو کم کرنے کے لئے پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے تحت سرسو  کو جاری 9.67 ارب روپے کی فنڈنگ سے سرسو نے جون 2025ع تک منصوبہ ختم ہونے کے باوجود 38 کروڑ کے انٹریسٹ کی رقم سندھ حکومت کو تاحال واپس نہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا۔

سی ای او سرسو نے کہا کہ انٹریسٹ کی یہ رقم سرسو کے پاس موجود ہے تاہم  جون 2025ع میں یہ منصوبہ ختم ہوا ہے س لئے محکمہ پلاننگ لیٹر لکھے گا تو سرسو وہ رقم سندھ حکومت کو واپس کردے گی۔

چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سرسو کو جاری 9.67 ارب کی فنڈنگ میں سے کتنا خرچ ہوا اس متعلق تفصیلات فراہم کریں۔

پی اے سی نے سرسو کو جاری ہونے والی 9.67 ارب روپے کی فنڈنگ سے ہونے والے اخراجات سمیت سرسو کیجانب سے 38 کروڑ روپے کے انٹریسٹ کی رقم اپنے پاس رکھنے کے متعلق فیکٹ فائینڈنگ تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اجلاس میں آڈٹ کا ریکارڈ فراہم کرنے اور ریکارڈ کی فراہمی میں تاخیر پر معذرت کرنے پر پی اے سی نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ کے معطل پیپلز پاورٹی رڈکشن پروگرام کے پی ڈی پرویز احمد کو بحال کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں