
آمریکی کوسٹ گارڈ نے اعلان کیا ہے کہ بحریہ اوقیانوس سمندر میں سب میرین ممکنہ طور پر ٹائٹینک کے ملبے کے قریب پھٹ گیا ہے، کسی بھی مسافر کی زندہ بچنے کا امکان نہیں۔
آبدوزِ ‘ٹایٹن’ بنانے والے کمپنی ‘ اوشین گیٹ ایکدپیڈشن’ نے جاری بیان میں بتایا کہ ادارے کے سی ای او، اسٹاکٹن سمیت جھاز میں موجود پانچوں مسافروں کے بارے میں خیال کیا جاتاہے ہے کے ہو مرچکے ہیں۔
کوسٹ گارڈ عملداروں نے ایک کانفرنس کے دوران بتایا کہ ٹائٹن پر سوار تمام مسافروں کے ورثاء کو اطلاع دی گئی ہے۔
فرسٹ کوسٹ گارڈ کے ریئر ایڈمرل جان مائوگر کا کہنا تھا کہ ٹائیٹنک کے ملبے کے ساتھ ملنے والہ ملبہ آبدوز کے پھٹنے کے عین آثار مطابق ہے۔
اس سے پہلے ماھرین نے بتایا تھا کہ اندازے مطابق ٹائٹن میں آکسیجن ختم ہو گئی ہے جس وجہ سے کسی کے بھی زندھ بچنے کا امکان تقریبن ختم ہو چکا ہے۔
ٹائٹن جو زمین سان رابطو راوانگی کے بعد صرف ایک گھنٹہ 45 منٹ کے بعد منقطع ہوگیا تھا، جس کے بعد ماھرین نے اسے تلاچ کرنا شروع کردیا تھا۔
واضح رہے کہ آبدوز میں چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اسٹاکٹن رش، شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد، پال ہنری نارجیولیٹ اور ہیمش ہارڈنگ سوار تھے۔
