
قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو 16 واں قائد ایوان اور ملک کا 24 واں (نگران وزیراعظموں کو ملا کر مجموعی طور پر 33 واں) وزیراعظم منتخب کرلیا۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اسپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اعلان کیا۔
ایاز صادق نے بتایا کہ شہباز شریف 201 ووٹ لیکر وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کیے۔
نئے قائد ایوان کے انتخاب کے عمل سے قبل اسپیکر کے حکم پر5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں جس کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے گئے
اسپیکر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہباز شریف کے حق میں جو اراکین ہیں لابی اے کی طرف چلے جائیں جبکہ عمر ایوب کے حق میں اراکین لابی بی میں چلے جائیں۔
جے یو آئی کے اراکین وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی کا حصہ نہ بنے اور قومی اسمبلی ہال کے دروازے بند ہونے سے قبل جے یو آئی کے اراکین ہال سے باہر چلے گئے
بی این پی کے سربراہ
سردار اختر مینگل ایوان میں بیٹھے رہے اور انہوں نے کسی کو بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔
حکمران اتحاد کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے منصب کیلئے شہباز شریف امیدوار تھے جبکہ ان کے مد مقابل سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب خان تھے۔
