
کراچی:سندھ میں پسماندہ طبقے کو سماجی تحفظ فراہم کرکے غربت اور خوراک کی کمی کو پورا کرنا ممکن ہے، سندھ حکومت کا مختلف محکموں کے سوشل سیکیورٹی پلان اور پروگرامز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا فیصلہ۔
اس بات کا اعلان نگراں وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے محکمہ سماجی تحفظ اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سوشل سیکیورٹی کے اہم موضوع پر شروع کیا گیا سوشل سیکیورٹی پروگرام صوبے کی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کا ایک اہم اقدام ثابت ہوگا ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں، نجی و سماجی شعبوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیونکہ سماجی تحفظ حقیقی انسانی ترقی کی راہ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا کہ شفافیت اور احتساب سے سوشل سیکیورٹی کا شعبہ مضبوط ہوگا جس سے سندھ کے عوام کو فائدہ ہوگا۔
صوبائی وزیر سوشل سیکیورٹی محمد احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے کے تمام محکموں کو سوشل سیکیورٹی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ایک اہم عوامی فریضہ ہے۔
سید احمد شاہ نے مزید کہا کہ سندھ میں آبادی کے پسماندہ طبقے کو سماجی تحفظ کی فراہمی کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیئرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب، آئی بی اے کراچی کی ڈین ڈاکٹر عاصمہ حیدر، سوشل سیکیورٹی بورڈ کے وائس چیئرمین حارث گزدر نے کہا کہ سوشل سیکیورٹی پاکستان میں غربت کے خاتمے اور مختلف سماجی اور معاشی مسائل کو روکنے کا ایک موثر طریقہ ہے۔ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے، جس کے ذریعے سبسڈی اور عوامی وسائل کے ٹارگٹڈ استعمال کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
سندھ کی سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر شیریں ناریجو نے سماجی تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ میں مزدور اور مزدور تنظیموں کے آئینی حقوق کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
شیریں ناریجو کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سوشل سیکیورٹی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبہ کیا کردار ادا کر رہا ہے، آبادی کا دباؤ زیادہ ہے، اس لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز پر عمل درآمد کیا جائے، جب کہ صرف سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ پر انحصار کرنے کے بجائے تمام محکموں کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا ۔
سیکرٹری ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ تحسین فتح نے اپنے خطاب میں فیض احمد فیض کی نظم کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہمارے ملک میں نظام درست نہیں ہے اس لیے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہے ہیں، غربت میں کمی اور ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سماجی تحفظ کے لیے ریاست کے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں محکمہ محنت کے سیکرٹری شارق احمد نے کہا کہ سندھ حکومت سیسی کے پلیٹ فارم سے غریبوں کی ترقی اور سماجی تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جس میں غریبوں کے لیے مفت علاج اور رہائش کی سہولیات شامل ہیں۔ 1 کروڑ 30 لاکھ بینظیر لیبر کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں۔ جبکہ ورکرز ویلفیئر بورڈ بھی مزدوروں کی ترقی اور تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے جس میں مختلف ہنگامی حالات میں ورکرز کی مالی امداد بھی شامل ہے۔
ورلڈ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے عہدیداروں مون کاڈھا اور نعیم اقبال نے کہا کہ قدرتی آفات سے قبل ممکنہ متاثرین کے سماجی تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
سیمینار میں سیکرٹری ڈویلپمنٹ اینڈ پلاننگ محمد اصغر میمن، صوبائی سیکرٹری شارق مصطفی، سوشل سیکورٹی اتھارٹی کے سی ای او سمیع اللہ شیخ، تھردیپ بینک کے سربراہ ڈاکٹر سونو کنگھرانی، آئی آر سی کی کنٹری ہیڈ شبنم بلوچ، پبلک پالیسی سپیشلسٹ کاظم سعید، رابعہ رزاق، شہزادی رائے، خواتین کے حقوق کی رہنما امر سندھو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سیمینار میں سماجی تحفظ کے شعبے سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی جب کہ تقریب کے اختتام پر نگران وزیراعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے شیلڈز بھی تقسیم کیں۔
