بیوی مہر جب چاہےشوہر ادائیگی کا پابند ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے مہر کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست کی سماعت کے بعد تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

حکم نامے میں لکھا کہ جب بھی بیوی کی طرف سے مطالبہ کیا جائے، مہر کا ادا کرنا ضروری ہے۔

شوہر نے دعویٰ کیا کہ شادی برقرار ہے لہٰذا مہر قابل ادائیگی نہیں

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 2001 کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مہر کا مطالبہ شادی کے دوران بھی کیا جا سکتا ہے اور شوہر ادائیگی کا پابند ہے۔

وکیل صفائی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بیوی کو بینک چیک کے ذریعے مہر ایک ماہ کے اندر ادا کر دیا جائے گا

مہر اور مذکورہ اخراجات ادا نہ کیے گئے تو ایک لاکھ روپے زر تلافی بھی عائد ہوگا اور درخواست گزار کی جائیدادیں بھی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں