مجلس وحدت مسلمین کی یکجہتی فلسطین آل پارٹیز کانفرنس،اسرائیلی مظالم کی مذمت

کراچی: مجلس وحدت مسلمین کراچی جانب سے یکجہتی فلسطین آل پارٹیز کانفرنس کراچی شہید حمید علی بھوجائی ہال میں کیا گیا جس میں مختلف سیاسی ،مذہبی و سماجی جماعتوں بشمول متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی، جی ڈی اے، تحریک انصاف، جے یو پی،مرکزی مسلم لیگ، پاکستان عوامی تحریک اہل حدیث رابطہ کونسل ، شیعہ علماء کونسل، جعفریہ الائنس، زاکرین امامیہ، دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

کانفرنس سے صدارتی خطاب میں مرکزی رہنما علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل غاصب ریاست ہے فلسطینیوں نے اپنی زمین نہیں بیچی یہ ایک صہیونی پروپیگنڈہ ہے۔ دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ حماس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حملہ کردیا جس کی جوابی کاروائی اسرائیل نے کئ ہے گزشتہ 75 سالوں سے اسرائیل نے فلسطینیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور لاکھوں معصوم بچوں، خواتین، جوانوں اور بزرگوں کو بے رحمی سے قتل عام کیا جارہا ہے ۔حماس نے ان 75 سالوں کا جواب دیا اور اپنا دفاع کیا جس پر پوری دنیا بول رہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اسلامی ممالک صرف اجلاس کر رہے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ  ملکی تعلیمی اداروں میں مسئلہ فلسطین کو اپنے نصاب کا حصہ بنائے۔صحافت ریاست کا ستون ہے تاریخ مسئلہ فلسطین پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔آزادی فلسطین کی جنگ ہم سب کو مل کر لڑنی ہے ۔کشمیر و فلسطین کا مسئلہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے ۔حکومت ملکی سطح پر امریکی و اسرائیلی مصنوعات کا بیکاٹ کریں۔مسلم ممالک اسرائیل کو تیل و گیس کے معائدے ختم کریں

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان اور مسلم ممالک امریکہ و اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کریں۔کانفرنس سے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا بنیادی مسئلہ ہے ۔فلسطین کاز کیلئے یک جان ہیں۔35 دنوں میں فلسطین میں  اسرائیلی بربریت، دہشت، وحشت اور حیوانیت جاری ہے۔فلسطین میں یزیدیت جاری ہے ۔مسئلہ فلسطین جے حل کیلئے دنیا بھر کی طرح ملکی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک ہیں ۔اسرائیل و امریکہ اس دور کے یزید ہیں ۔دور حاضر کے یزید کے خلاف ملکی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اپنا کردار حسین ابن علی علیہ کی طرح ادا کرنا ہوگا۔

کانفرنس سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قادر خان نندوخیل کا کہنا کہ 35روز سے اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔57 اسلامی ممالک کے سامنے نہتے فلسطینی مسلمان اپنی جدوجہد کر رہے ہیں ۔شہید ذولفقار علی بھٹو کا مسئلہ فلسطین اور غاصب اسرائیل کیلئے ان کا موقف واضح تھا۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اسرائیلی گمنڈ توڑ دیا۔

جماعت اسلامی کے رہنما مسلم پرویز کا کہنا تھا کہ امریکہ و برطانیہ نے فلسطینیوں سے ان کی سرزمین چھینی ۔گریٹر اسرائیل کا صہیونی خواب چکنا چور ہوگیا۔مسلمان سے زیادہ صہیونیت سے عیسائیت اور یہودیوں کو بھی خطرہ ہیں۔صہیونی نظریہ دجال کی پیروی اور پوری دنیا پر حکومت کرنا ہے۔سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے راستے پرچل کر ہی ان دشمنوں کو شکست دی جاسکتی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے مسئلہ فلسطین کو منشور کا حصہ بنائیں ۔ریاستی سطح پر اسرائیلی مصنوعات کا کابیکاٹ کیا جائے۔پورے ملک میں فلسطینی مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے مرکز فلسطین کیمپ لگائے جائے۔

کانفرنس میں سیاسی رہنما فیصل علی بلوچ، علامہ عقیل انجم، امجد اسلام امجد، علامہ ناظر عباس تقوی، علامہ باقر عباس زیدی، ثاقب نوشائی، ڈاکٹر صابر ابو مریم، علامہ مرتضی خان نظامی سمیت دیگر مقررین نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ ،عالمی برادری، مسلم حکمرانوں سمیت حکومت پاکستان سے امریکہ و اسرائیلی مصنوعات کے بائیکات، اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں