حیدرآباد میں شھید صحافی جان محمد مھرکے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مظاہرہ

حیدرآباد (رپورٹ: حب علی) سندھ میڈیا نیٹورک کی جانب سے حیدرآباد مین سینیئر جرنلسٹ شھید جان محمد مھر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے نسیم نگر چوک پر دھرنا دیا گیا

سندھ میڈیا نیٹورک کی جانب سے سندھ کے بھادر سینیئر جرنلسٹ شھید جان محمد مھر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے اور قتل میں ملوث جوابداروں کے لیئے سھولتکاری کا کردار ادا کرنے والے جوابداروں کی گرفتاری کے لیئے حیدرآباد قاسم آباد کے نسیم نگر چوک پر احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں سیاسی سماجی رہنمائوں اور وکلا جب کے بڑی تعداد میں جرنلنسٹ نے بھی شرکت کی

قومپرست رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی، روشن علی برڑو، سندھ صوفی فورم کے کنوینر ڈاکٹر بدر چنا رواداری تحریک سندھ کے صدر کامریڈ پنھل ساریو سندہ ھندو کائونسل کے چیئرمین دیوان سورج کوھستانی، صحافی اصغر کانوٹھی، شاھنواز خاصخیلی، حسیب ملاح، سکر لاشاری، امام علی، پروگریسو یوتھ الائینس کے رہنما سرمد سیال عبید سیال، جسقم کے سینیئر رہنما غفار مھر، ایس یو پی کے مرکزی رہنما رسول بخش تھیبو، سماجی رہنما ایڈوکیٹ احمد علی دل، ایڈوکیٹ کامران سولنگی، ایڈوکیٹ مھران بھٹو، ایڈووکیٹ حسن چانڈیو اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقعے پر رہنمائوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کے سکر میں سینیئر صحافی جان محمد مھر کا قتل اس ملک میں صحافت کی آزادی آئین اور قانون کا فتل ہے رہنمائوں نے کہا کے جان محمد مھر کا قتل سندھ کے بھادر صحافیوں کے خلاف ایک گھری سازش ہے جیسے وہ حق سچ نا رپورٹ کر سکیں۔

رہنمائوں نے کہا کے جان محمد سندہ کے مظلوم اور بے سھارہ  لوگوں کے لیئے ایک طاقتور آواز تھا جس نے اپنے قلم سے ھمیشا مظلوم لوگوں کے حقوق کے لیئے ان کے کیس لڑے ۔ جان محمد مھر ایک بھادر انسان تھا جس کو ٹارگیٹ کرکے قتل کردیا گیا۔

رہنمائوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شھید جان محمد کے قتل پر پوری سندھ میں سوگ کی لہر چانہی ہوئی ہے پورے سندھ میں صحافی سیاسی سماجی رہنما وکلا اور سندھ کے نوجواں قاتلوں کی گرفتاری کے لیئے سراپا احتجاج ہیں ۔

رہنمائوں نے کھا کے کچھ عرصے سے سندھ میں صحافیوں کو ٹارگیٹ کر کے قتل کیا جارہا ہے سندھ کی دھرتی حق سچ لکنے والے بھادر صحافیوں کے لیئے اس لیئے تنگ کی جارہی ہے کیوں کے کوئی بی ان نااھل حکمرانوں کے کرتوت عوام کے آگے  ظاھر نا کرے صحافیوں کا قتل سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی نااھلی ہے ۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کی پولیس عوام اور صحافیوں کو تحفظ فراھم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے آئے دن ڈاکو معصوم بچوں کو اغوا کرلیتے ہیں لوگوں کو مارکیٹ سے اٹھا کر اغوا کر لیتے ہیں ڈاکو کلی عام کچے کے بعد اب سندھ کے شھروں میں گھومنے لگے ہیں کیوں کے پولیس حکمرانوں اور وڈیروں کے بنگلوں پر کمداری مین مصروف ہے ۔

سندھ میڈیا نیٹورک کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شھید جان محمد مھر کے قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرواکر تمام ملوث جوابداروں کو فوری طور پر گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے دوسری صورت میں احتجاج کا دائرا مزید وسیح کیا جائے گا ۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں