
کراچی (رپورٹؒ اے بی سومرو) ڈیفنس میں بنگلے میں ہونے والی ڈانس پارٹی کے دوران مبینہ طور پرنشے کی زیادتی کے باعث ایک خاتون ہلاک ہوگئی، پارٹی میں موجود ایک خاتون اور مرد خاتون کی لاش جناح اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق
صدر تھانے کی حدود میں واقع جناح اسپتال میں ہفتہ کی صبح کار میں سوار ایک مرد اور لڑکی ایک خاتون کی لاش کو لیکر آئے،ڈاکٹرز کی جانب سے خاتون کی موت کی تصدیق کے بعد پولیس کے آنے سے پہلے ہی وہ دونوں وہاں سے فرار ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق جناح اسپتال شعبہ ایمرجنسی کے کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے میں ان کی کاراور تصویریں بھی محفوظ ہیں، اسپتال کی ایمرجنسی میں خاتون نے اپنا نام سحرش جبکہ مرد نے جبران بتایا تھا اوریہ بھی بتایا تھا کہ مردہ خاتون 20 سالہ عائشہ زوجہ کاشف ہے۔
بیان دیا کہ ایک پارٹی کے دوران اس نے زیادہ نشہ کرلیا جس سے اسکی موت واقع ہوئی ۔لیڈی ایم ایل او کے آنے کے بعد خاتون کا پوسٹ مارٹم ہوا ۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے پوسٹ مارٹم کے بعد بتایا کہ لاش پر کسی طرح کے تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں، کیمیائی تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد وجہ موت سامنے آسکے گی جبکہ لاش کی شناخت کیلئے انگوٹھے کے نشانات بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کیساتھ زیادتی ہوئی ہے یا نہیں ڈاکٹرز کی رپورٹ کے بعد اسکی تصدیق ہو سکے گی۔ پولیس نے پہلے تلاش ایپ کے ذریعے خاتون کی شناخت کی کوشش کی تاہم اس میں کامیابی نہیں مل سکی جسکے بعد سی پی ایل سی کے بائیو میٹرک سے اسکی شناخت 24 سالہ عائشہ حنیف کے نام سے کی گئی۔
پولیس نے اسپتال سے ملنے والی فوٹیجز سے کار کا نمبر حاصل کیا اور اسکا ریکارڈ نکالا گیا اور اسکے مالک ندیم ولی کے گھر واقع گولیمار پر چھاپہ مارا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کار اس نے احمد نامی شخص کو دی تھی جو رینٹ اے کار کا کام کرتا ہے جبکہ احمد نے بتایا کہ اس نے کار گزشتہ روز جبران کو کرائے پر دی تھی اور اسکے کوائف پولیس کو جمع کرادیے گئے ہیں جس کی روشنی میں مزید کارروائی جاری ہے۔
پارٹی ڈیفنس کے کس بنگلے میں ہوئی اور اسکا مالک کون تھا اس سلسلے پولیس افسران نے بتانے سے گریز کیا ہے تاہم ایس ایس پی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ مذکورہ بنگلہ کورنگی روڈ ڈیفنس موڑ کے قریب واقع ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی عائشہ گلستان جوہر کی رہائشی ہے اور وہ ڈیفنس کے ایک بنگلے میں پارٹی کرنے آئی تھی۔
بنگلے کے مالک کی تلاش جاری ہے، ابتدائی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی نشے کی زیادتی سے ہلاک ہوئی ہے، لڑکی کو اسپتال چھوڑ کر فرار ہونے والی خاتون سحرش اور جبران نامی شخص کی تلاش جاری ہے۔
متوفی عائشہ کی ساس ثوبیہ نے بتایا کہ میں ابھی پنجاب سے فلائٹ لیکر پہنچی ہوں،عائشہ کی خبر میڈیا پر دیکھ کر کراچی آئی ہوں۔عائشہ نے کل شام مجھے بتایا کہ اس نے دوست کی سالگرہ پارٹی میں جانا ہے۔
عائشہ میری کزن کی بیٹی ہے اور اس نے میرے بیٹےعادل سے پسند کی شادی کی تھی، انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا عادل اور عائشہ کی شادی دو سے ڈھائی سال قبل ہوئی تھی اور چھ ماہ پہلے وہ کراچی آئے تھے اور گلستان جوہر میں رہ رہے تھے۔عادل پہلے آن لائن ٹیکسی چلاتا تھا تاہم پھر وہ نشے کی عادت میں پڑ گیا۔
عائشہ ٹک ٹاکر تھی یہ معلوم ہے تاہم عائشہ نشہ کرتی تھی اس حوالے سے مجھے علم نہیں ہے،انہوں نے بتایا کہ انکا اپنے بیٹے عادل سے ابھی تک رابطہ نہیں ہوا ہے۔عائشہ کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور اسکا والد ہوٹل چلاتا ہے،عائشہ کی اولاد نہیں تھی۔ پولیس کے مطابق متوفیہ ٹک ٹاکر بھی تھی اور اسکا موبائل فون پولیس کو نہیں ملا ہے جبکہ جناح اسپتال میں اسکی لاش چھوڑ کر فرار ہونے والا شخص جس نے اپنا نام جبران بتایا تھا اسکا نام رحمت علی معلوم ہوا ہے، پولیس نے رینٹ اے کار کا کام کرنے والے شخص احمد علی اور ایک اور شخص کو حراست میں لیا ہے۔پولیس نے واقعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کرلی ہے۔
