
کراچی: سیاسی و سماجی رہنما لیاقت علی ساہی نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سترویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذولفقار علی بھٹو نے عوام کو اُس وقت متحرک کرکے کھڑا کیا تھا جب ملک میں ایوب خان کی آمرانہ حکومت تھی جس کے خلاف کوئی بھی سیاسی رہنما آواز اُٹھانا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن دیکھتے دیکھتے تعلیموں اداروں میں طلبہ بھی ایوب کُتا کے نعرے لگانا شروع ہوگئے اور پھر اس عظیم لیڈر نے مزدوروں ، کسانوں اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو متحرک کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط پارٹی بنا دیا ۔ ضیاءالحق نے جوڈیشری کے ذریعے انہیں جھوٹے مقدمے میں پھانسی دے کر بنیادی طور جیسے سیاسی ورکرز آج بھی شہید ذولفقار علی بھٹو کو جوڈیشری قتل قرار دیتے ہیں ملک کا بنیادی طور پر ناقابل تلافی نقصان کیا تھا ایک عظیم لیڈر سے قوم کو محروم کردیا تھا۔اُس وقت بھی ضیاءالحق کی آمرانہ حکومت کے سامنے کھڑا ہونا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اُس وقت بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جو جدوجہد کی اور اپنے والد کے سیاسی ورثے کو سنبھالتے ہوئے آمر کا مقابلہ کیا جس کی وجہ سے ملک میں دوبارہ جمہوریت پٹری پر چڑھی اس کا تمام تر سہرا محترمہ کو جاتا ہے ، جسقدر جیلوں میں تکلیفیں برداش کیں اورجس بہادری سے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا یقینا قابل ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ تمام طبقوں کے مسائل پر گہری نگاہ رکھتی تھیں اورپارٹی پر ان کی مضبوط گرفت ہوتی تھیں ۔ان کے سیاسی نظریے کی وجہ سے مشرف نے جبری طور پر انہیں ملک بدر کرکے اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی لیکن ایک موقع ایسا آگیا کہ مشرف کو محترمہ سے سیاسی بات چیت کرنا پڑی لیکن ملک دُشمن قوتوں نے بی بی شہید کو موقع نہ دیا کہ وہ 2008 کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر ملک کو مضبوط کرسکے ظالموں نے راولپنڈی جلسے کے اختتام پر ٹارگیٹ کرکے شہید کردیا لیکن آج بھی بی بی کی جمہوریت کے لئے کی جانے والی جدوجہد گلیوں کوچوں میں سر چڑکر بول رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سیاسی طور پر جناب آصف علی زرداری اور آدی فریال ٹالپور نے بڑی محنت کے ساتھ تیار کردیا ہے اب بلاول بھٹو زرداری سے وہ نظریاتی طبقہ پُر امید ہے کہ شہید ذولفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید مضبوط کریں گے اور بالخصوص سندھ حکومت کی کارکردگی کو بھٹو شہید کے فلسفے کی روشنی میں روڈ ماڈل بنا کر مضبوط کریں گے اورملکی سطح پر پیش کریں گے اس سلسلے میں یقینا انہیں عام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ڈائیلگ کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا اور پارٹی ورکرز کے ساتھ مشاورتی عمل کو آغازکرنا ہوگا تاکہ عوام میں سے کسی بھی فرد کی آپ تک رسائی ہوسکے
میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ایک واقعہ پیش کرنا چاہتاہوں کہ نواز شریف کی 1992 میں حکومت تھی کراچی میں اُس وقت ایم کیوایم لسانی بنیادوں پر بہت گرفت رکھتی تھی اسٹیٹ بینک کے گورنرنے ہیڈ آفس سے کراچی آفس کو نارتھ ناظم آباد ٹرانسفر یعنی کہ شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہماری کوئی سُنوائی نہیں ہورہی تھی ایک دن میں نے بلاول ہاؤس فون کرکے بی بی کے شیڈول کے بارے میں دریافت کیا توپتہ چلا کہ آج شام بی بی پانچ بجے ٹریڈ یونین رہنماؤں سے ملاقات کررہی ہے میں نے کہا کہ کیا اس میں ہم شامل ہوسکتے ہیں تو جو فون پر ساتھی تھے انہوں نے کہا کہ ساہی صاحب آپ کے ڈیلیگیشن کا پہلا نمبر ہوگا اور آپ پانچ بجے پہنچ جائیں جب ہم بلاول ہاؤس پہنچیں تو ایسے ہی ہوا سب سے پہلے بی بی ہم سے ملیں ، کیا شخصیت تھی میری پہلے ملاقات تھی پہلے تو میں بہت دباؤ میں تھا لیکن جب بی بی نے کہاMr Sahi how are you what your grievances تو میں نےکچھ مزید سنبھلتےہوئے اپنا مسئلہ بیان کیا ایک لمحہ ضائع کیا بغیر ناہید خان اور میرانی صاحب کو بُلایا اورہمارے سامنے کہا کہ ابھی خط لکھا جائے نوزُشریف کو اور میری سرتاج عزیز سے بات کرائی جائے How is possible central Bank’s employees forcibly transfer from hub of banking ہم شکریہ اداکرتے ہوئے وہاں آئے اور صبح گورنر اسٹیٹ بینک ہمیں تلاش کروا رہاتھاکہ ہم کہاں وہ آفس آج بھی وہیں ہے ، اس طرح کاطریقہ کار بلاول بھٹو زرداری کواختیارکرناہوگا آج کے دور میں تو وزراء ملاقات تو دور کی بات ہے فون بھی کسی پارٹی ورکرکا آٹینڈ نہیں کرتے ایسی صورتحال میں شہید محترمہ بے نظیر کے سیاسی ورثے کو مضبوط کرنا نہ صرف مشکل ہوجائے گا بلکہ عوامی دباؤ بڑھتا جائے جس کا براہ راست خمیازہ پارٹی کو ادا کرنا ہوگا۔ ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 70 ویں پیدائش پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی کے بنیادی نظریے کو پرموٹ کیا جائے گا۔
