آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی کی مناسبت سے خصوصی نشست کا انعقاد
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی کی مناسبت سےخصوصی نشست Zulfiqar Ali Bhutto (Global Vision & Contemporary Conflicts) کا انعقاد کا انعقاد آڈیٹوریم ون میں کیا گیا۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ ”ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔ عالمی وژن اور عصری تنازعات“ کے موضوع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، مشاہد حسین سید، رضا ربانی، سہیل وڑائچ، سعید غنی، ہما بقائی، ڈاکٹر جعفر احمد اور مظہر عباس نے گفتگو کی۔ تقریب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ،نثار کھوڑو، صوبائی وزیر سعید غنی، سید وقار مہدی، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، فرحان غنی سمیت سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ نظامت ڈاکٹر ایوب شیخ نے کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک کے بعد قومی ترانے سے کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹوکے بارے میں بات کرنے کے لیے کسی ریسرچ یا تیاری کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی شخصیت اور کام اتنے واضح ہیں کہ ہر کوئی انہیں جانتا ہے۔ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ میں ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کا پاکستان پیپلز پارٹی سے ابتدائی دنوں سے تعلق تھا۔جب 65 میں جنگ ہوئی تو حکومت کی پالیسیز سے اختلاف کر کے حکومت چھوڑی ،وہ کسی ایک بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے ،چائنہ جاتے ہیں، اور وہاں تقریریں کرنی پڑتیں۔ میں تقریبا ہر جگہ یہ بات دہراتا ہوں کہ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وژن تھا، جس نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی ترقی کے لیے بنیاد رکھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ اگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں چین کے ساتھ اپنی دوستی مضبوط کرنی ہوگی۔ اور یہی بنیاد انہوں نے رکھی۔،ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامک ورلڈ یونٹی کی اہمیت کو سمجھا، بھٹو صاحب زندہ ہوتے تو موجودہ عالمی تنازعات، خاص طور پر ایران پر جنگ کے امکانات اور اسرائیل کی کاروائیاں مڈل ایسٹ میںیہ صورتحال نہ ہوتی ،جس طریقے سے آج مسلم ممالک کو دبایا جا رہا ہے، بھٹو صاحب ان کی تقاریر اور اقوامِ متحدہ میں دی گئی تقاریر آج بھی ہمارے لیے انسپریشن کا باعث ہیںانہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان کی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے نیوکلیئر پروگرام شروع کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آج ہماری دفاعی برتری اور فارن پالیسی کی بنیاد انہی فیصلوں پر قائم ہے۔ ایک تقریر کے آخر میں بھٹو نے فرمایا:’’میں مسلمان ہوں، مسلمان کا بچہ ہوں، اور میں اس ملک کے لیے اپنی ہر قربانی دوں گا۔ میں پاکستان کے لیے اپنی جان دوں گا، اپنے بچوں کی قربانی دوں گا۔‘‘یہ وہ اصول اور جذبہ ہے جو آج بھی ہمیں سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل مقصد قوم کے لیے قربانی دینا اور عوام کے ساتھ رہنا ہے۔ہمیں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور احمد شاہ صاحب کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے اس برسی کو یادگار بنانے کے لیے اقدامات کیے اور ہم ڈسٹرکٹ سطح پر قرآن خوانی اور خراج تحسین کے ذریعے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو یاد کریں گے۔
صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو ثقافت کا بھی پتا تھا ،ذوالفقار علی بھٹو آرٹس کونسل کے کچے فرش پر آ کر تقریریں کرتے رہے ،ذوالفقار علی بھٹو پہلا آدمی تھا اس ملک میں جس نے تمام ثقافتی ادارے بنائے ان کو یہ بھی پتا تھا کہ گلوبل کنیکٹیوٹی اور ڈپلومیسی تھرو کلچر جو ہے اس کی اہمیت کیا ہے۔ شملہ معاہدہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی کامیابیوں میں شامل ہے۔ ایک ایسا شخص جو صرف ساڑھے چار سال وزیرِاعظم رہا، لیکن اس مختصر عرصے میں اس نے معاشرے کے عام انسان، مزدور، ہاری اور غریب آدمی کو ایک نئی جرات دی، پہلے ایک ہاری یا مزدور کے لیے یہ تصور بھی مشکل تھا کہ وہ کسی وڈیرے، پیر یا سردار کے سامنے چارپائی پر بیٹھ سکے، ذوالفقار علی بھٹو بلاشبہ دنیا کے بڑے ذہین اور تعلیم یافتہ انسانوں میں شمار ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے کارکنوں اور عوام کے درمیان جاتے تھے تو کسی امیر سیاستدان کی طرح سوٹ پہن کر یا سگار پیتے ہوئے نہیں جاتے تھے۔ نیشنلائزیشن کا فیصلہ ایک بہت بڑا جھٹکا تھا اس نظام کے لیے جو معاشی طاقت کو چند ہاتھوں میں رکھنا چاہتا تھا۔
رضا ربانی نے کہا کہ اگر ہم آج کی دنیا کے منظر نامے جو مد نظر رکھیں اس وقت امریکی سامراج آئل کی جہدوجہد اور قبضے میں مصروف ہے۔۔یہ صرف ایران کے ساتھ نہیں بلکہ وینزویلا کے ساتھ بھی ہوا۔ آج بھی ہم یہ بات دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ جتنے بھی اقدام اٹھا رہا ہے اس کا ہدف دنیا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ شامل ہے۔ ایک چھوٹی سی جھلک ہمیں اپنے بلوچستان میں ملتی ہےجس پر امریکہ کہہ رہا ہے میں سمجھوتہ کرنے کو تیار ہوںیہ بات بھٹو نے ستر کی دہائی میں کی اور عربوں کو بتایا کہ اگر اکھٹے نہ ہوئے اور تیل کو ہتھیار نہ بنایا امریکی سامراج آپ پر حاوی ہو جائے گا۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اسلامک سمٹ لاہور میں کیاور اسلامک سمٹ میں تمام مسلم ممالک کو اکھٹا کیا۔اور یہ بات باور کرائی کہ مسلم ممالک ایک طاقت ور حیثیت رکھتے ہیں۔ بھٹو نے مظلوم عوام کی نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر مدد کی ۔ آج کی حکومت یہ کہتی ہے کہ انہوں نے چین سے تعلقات بنائے ہیں۔لیکن حقیقت یہ کہ ان تعلقات کی بنیاد شہید ذوالفقار بھٹو نے ڈالی۔اگر آج ہم ایٹمی طاقت ہونے پر اترا رہے ہیں یہ فخر ذوالفقار علی بھٹو کے مرہون منت ہے۔
معروف سیاست دان و ماہر بین الاقوامی امور مشاہد حسین سید نے کہا کہ احمد شاہ کی ریٹائرمنٹ نہیں ہے جس طرح آپ نے کلچر کو زندہ کیا ہے، وہ واقعی قابل تعریف ہے۔بھٹو زندہ ہے کیونکہ ان کے کارنامے زندہ ہیں۔ وہ اس لیے بھی زندہ ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان کو مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی نیوکلیئر پاور ملک بنایا اور وہ ویژن دیا، وہ عوامی لیڈر تھے، مسلم ممالک کے لیڈروں کے ساتھ بھٹو صاحب نے جو اقدامات کیے، وہ آج بھی قابل ذکر ہیں، آج جو معاہدے اور تعلقات پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہیں، ان کی بنیاد 50 سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔معروف صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب اپنے زمانے میں اندھے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے دور کے لیڈر کو، اپنے زمانے کے نابغہ روزگار کو، اپنے زمانے کے بڑے انسان کو نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ اس کی زبان کو فالو کر سکتے ہیں۔
رہنما پی پی و صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کا ایک کارکن ہوں ، ذوالفقار علی بھٹو ایک غیر معمولی انسان تھے، ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست، ان کی ذہانت اور پاکستان کے لیے ان کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے صرف 39 سال کی عمر میں پیپلز پارٹی جیسی جماعت بنا دی، اور ساڑھے چار سال کی حکومت میں جو کارنامے کیے، وہ ناقابلِ یقین ہیں۔
معروف سینئرصحافی، تجزیہ کارمظہر عباس نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو صرف پاکستان کے ایک رہنما نہیں تھے بلکہ وہ عالمی سیاست کو گہرائی سے سمجھنے والے ایک غیر معمولی رہنما تھے، جن کا وژن آج بھی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
